خیبر پختونخوا میں بدامنی اور کرپشن کی وجہ سے ایمرجنسی نافذ کرنا پڑی: وزیراعظم شہباز شریف

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم محمد شہباز شریف کی صدارت میں خیبر پختونخوا کی اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا،
جس میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال اور انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا۔
​اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا غیور اور بہادر لوگوں کا خوبصورت صوبہ ہے،
تاہم صوبے کے غیر معمولی حالات کے پیش نظر مجبوری میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔ انہوں نے پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کے سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی فوری تحقیقات کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ 2018 تک افواجِ پاکستان اور عوام کی عظیم قربانیوں کے نتیجے میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا،
لیکن گزشتہ حکومت کے دور میں دہشت گردوں کو دوبارہ بلایا گیا جس سے تمام قربانیاں متاثر ہوئیں۔
انہوں نے بتایا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو انسداد دہشت گردی کے لیے 800 ارب روپے سے زائد کے فنڈز فراہم کیے گئے،
لیکن اس کے باوجود سیف سٹی پروجیکٹ مکمل نہ ہو سکا اور نہ ہی پولیس کو جدید آلات و تربیت فراہم کی گئی۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جس جماعت نے کرپشن کے خاتمے کا نعرہ لگایا، وہ خود کرپشن میں ڈوبی رہی۔
خیبرپختونخوا میں صاف پانی کے منصوبے میں 100 ارب روپے اور کوہستان میگا اسکینڈل میں 37 ارب روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں آئین و قانون کے مطابق فیصلے کیے گئے ہیں اور ماہرین پر مشتمل مشاورتی کونسل تشکیل دی جا چکی ہے۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وفاقی حکومت اور عسکری قیادت مل کر خیبر پختونخوا کے عوام کی محرومیاں دور کریں گی اور صوبے میں امن، خوشحالی اور ترقی کا دور واپس لائیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں