کوئٹہ (خبردار نیوز)ینگ ڈاکٹرز ایکشن کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر طاہر موسیٰ خیل نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سول ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر پر ہونے والے تیزاب گردی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
انہوں نے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں، بالخصوص خواتین عملے کو درپیش سنگین خطرات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملے سے قبل شعبہ امراضِ نسواں (گائنی) میں ایک اور لیڈی ڈاکٹر کے بال نوچے گئے، جو انتہائی افسوسناک ہے۔
ڈاکٹر طاہر موسیٰ خیل کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے ہسپتالوں میں ایسے سینکڑوں واقعات ہو چکے ہیں جو اب تک منظرِ عام پر ہی نہیں آ سکے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں فرائض سرانجام دینے والے ڈاکٹرز جن کٹھن حالات اور خوف کے سائے میں کام کر رہے ہیں،
ان کی کہانیاں سن کر لوگ دنگ رہ جائیں گے۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے واقعے کے مرکزی ملزم کی ہلاکت پر گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کی اس طرح ہلاکت نے ڈاکٹرز برادری کے اندر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں،
جبکہ واقعے کے اصل محرکات اور ملوث افراد تک پہنچنے کے لیے ملزم کی گرفتاری اور تفتیش انتہائی ضروری تھی۔
ینگ ڈاکٹرز ایکشن کمیٹی نے حکومت سے مطالبات کرتے ہوئے کہا کہ:
۱۔ متاثرہ ڈاکٹر ماہ نور کو علاج معالجے کی ‘سٹیٹ آف دی آرٹ’طبعی سہولیات فراہم کی جائیں۔
۲۔ زخمی میڈیکل ٹیکنیشن عبد الرزاق کا مکمل علاج سرکاری خرچے پر کروایا جائے۔
۳۔ سول ہسپتال واقعے کی اعلیٰ سطح پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کروا کر ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے۔
۴۔ صوبے کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی حفاظت کے لیے فوری طور پر ایک جامع اور فول پروف سیکیورٹی پلان تشکیل دیا جائے۔