اسلام آباد( وقاراحمد ) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں اٹھائے گئے اقدامات 1973ء کے آئین کے عین مطابق اور قانونی ہیں کیونکہ صوبے میں حکمرانی کا نظام مکمل طور پر مفلوج اور امن و امان کی صورتحال ابتر ہو چکی تھی۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی اور کے پی حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف متفقہ پالیسی بنانے کے لیے متعدد مذاکرات کیے لیکن ایک ملک میں دو خارجہ اور سلامتی کی پالیسیاں نہیں ہو سکتیں۔
ایک طرف افغانستان کے معاملے پر سفارتی کوششیں جاری ہیں جبکہ دوسری طرف صوبائی حکومت کی پالیسی اس کے برعکس تھی۔
اس کے باوجود این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا حکومت کو تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے گئے، لیکن یہ رقم سی ٹی ڈی کے قیام، سیف سٹی کیمروں، فرانزک لیبارٹریز اور پولیس کے لیے جدید آلات پر خرچ کرنے کے بجائے ضائع کی گئی۔
وزیراطلاعات نے کہا کہ جنوبی اضلاع میں دہشت گرد غیر رسمی طور پر انتظامی ڈھانچے کا حصہ بن چکے تھے۔ معدنیات، لکڑی، تمباکو اور قیمتی پتھروں کی تجارت کے ذریعے سمگلنگ اور دہشت گردوں کی مبینہ سرپرستی جاری تھی۔
اس کے باوجود وفاقی حکومت نے مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کی پوری کوشش کی اور ایک معاہدے پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، لیکن وزیراعلیٰ نے اسے مسترد کر دیا۔ وہ دہشت گردی کے خلاف مربوط پالیسی اپنانے اور اعلیٰ سطحی کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شرکت سے گریزاں تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ پر پی ٹی آئی کی طرف سے لاکھوں افراد کو سڑکوں پر لانے کی دھمکیاں دی گئی تھیں، مگر ایک درجن افراد بھی باہر نہیں نکلے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کے پی کے عوام اس اقدام سے خوش اور پرامید ہیں۔
نئی مشاورتی کونسل میں قبائلی توازن، صنفی نمائندگی اور تجربہ کار افراد کو شامل کیا گیا ہے جو دہشت گردی کے خلاف مؤثر بیانیہ تشکیل دیں گے۔