اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے ترجمانِ دفترِ خارجہ نے امریکہ کے سابق نمائندہ خصوص برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کے ان بیانات کی سخت الفاظ میں تکذیب (تردید) کی ہے، جن میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان مسلح افراد کو افغانستان میں داخل کر کے مداخلت کر رہا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا موقف:
پاکستان نے ان الزامات کو یکسر بے بنیاد، من گھڑت اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے رد کر دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن و استحکام کی حمایت کی ہے اور اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی پالیسی پر سخت عمل پیرا ہے۔
طالبان انتظامیہ کا موقف اور پاکستان کا جواب:
افغان طالبان کی عبوری حکومت کی جانب سے بھی ماضی میں اس قسم کے خدشات اور الزامات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
تاہم، پاکستان نے ہر بار ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ پاکستان خود سرحد پار دہشت گردی (TTP کے ڈیروں) کا شکار رہا ہے۔
پاکستان نے نہ صرف افغان طالبان بلکہ زلمے خلیل زاد جیسے غیر ملکی سفارت کاروں کے تمام الزامات کو ہمیشہ مسترد کیا ہے۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اس نے پاک-افغان سرحد (ڈیورنڈ لائن) پر باڑ لگائی ہے تاکہ غیر قانونی آمد و رفت اور مسلح عناصر کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔
پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود کالعدم تنظیمیں (جیسے TTP) پاکستان کے اندر حملے کر رہی ہیں،
لہٰذا افغانستان کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا چاہیے۔