کوئٹہ ( خبردار نیوز ) کوئٹہ کے نواحی علاقے سنجدی کی کوئلہ کان میں پھنسے 12 میں سے 11 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ ایک کان کن کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن
جاری ہے۔ آج صبح کان سے نکالے جانے والے چھ کان کنوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔
9 جنوری کی شب کوئٹہ سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر اسپین کاریز کے علاقے سنجدی کول فیلڈ میں میتھین گیس دھماکے کے باعث کوئلہ کان بیٹھ گئی تھی، جس کے نتیجے میں 4 ہزار فٹ
گہری کان میں 12 کان کن پھنس گئے تھے۔
ریسکیو آپریشن میں محکمہ معدنیات، پی ڈی ایم اے اور دیگر ادارے شریک ہیں۔جنہوں نے اب تک 11 کان کنوں کی لاشیں نکال لی ہیں، جبکہ ایک کان کن اب بھی کان کے اندر موجود ہے۔
چیف مائنز انسپکٹر بلوچستان عبدالغنی کا کہنا ہے کہ کان کے اندر پھنسے کان کن کے زندہ بچنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں 3900 فٹ کی گہرائی تک پہنچ چکی ہیں اور امید ہے
کہ جلد مزید پیش رفت ہوگی۔
سنجدی حادثے میں جاں بحق چھ کان کنوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کے قائد حزب اختلاف ڈاکٹر عباداللہ خان نے مارواڑ کول مائنز کا دورہ کیا اور جاں بحق کان
کنوں کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔
پی ڈی ایم اے بلوچستان کے ڈائریکٹر ظہیر احمد بلوچ نے ریسکیو آپریشن پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گیس کی موجودگی اور کان کے بیٹھنے کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات
درپیش ہیں، تاہم ٹیمیں دن رات کوشش میں مصروف ہیں