کوئٹہ ( خبردارنیوز ) محکمہ صحت حکومت بلوچستان کا ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے اراکین سمیت دہری تنخواہیں لینے والے 36 میڈیکل آفیسران، 29 لیڈی میڈیکل آفیسران اور 9 ڈینٹل
سرجن کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا گیا ،
ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے کہا ہے کہ محکمہ صحت نے بدعنوانی کے ثبوتوں کے ساتھ ڈاکٹروں کی فہرست جاری کر دی، صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ
کوئٹہ میں جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ مالی بدعنوانی میں ملوث ڈاکٹروں کی فہرست مفاد پرستی کا واضح ثبوت ہے تاہم
حکومت بلوچستان عوام کو صحت کی سہولتوں سے محروم کرنے والوں کو بے نقاب کرے گی جس مقصد کے لیے تمام بین الاقوامی اداروں کو کنٹریکٹ ڈاکٹروں کی تفصیلات فراہم کرنے کا کہا گیا ہے،
اس کے خلاف بلیک میلنگ اور غیر قانونی تسلط حکومت کے لیے ناقابل قبول ہیں جبکہ چند گمراہ عناصر نے عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے،
جس پر صوبائی حکومت نے صحت کے شعبے میں بدعنوانی کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا تاکہ عوام کو بہترین صحت کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنایا جا سکے
اس سے قبل صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا ہے کہ مالی بدعنوانی میں ملوث ڈاکٹروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور بدعنوان عناصر کو سزا دی
جائے گی،
انکے مطابق بین الاقوامی اداروں سے کنٹریکٹ ڈاکٹروں کی تفصیلات طلب کی جا رہی ہیں اس کے علاوہ یو این اداروں میں ڈیپوٹیشن پر تعینات اہلکاروں کی تفصیلات بھی طلب کرلی گئی ہیں،
اور جن اہلکاروں کا دورانیہ ختم ہو چکا ہے انہیں پیرنٹ ڈیپارٹمنٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کی جائے گی،
صوبائی وزیر اکے مطابق محکمہ صحت میں اب کوئی خلاف ضابطہ معاملات نہیں چلیں گے، کیونہ ان کالی بھیڑوں کی وجہ سے عظیم پیشے پر سوال اٹھ رہے ہیں،
انہوں نے اسپتالوں کی بندش کو غریب مریضوں کے لیے ناقابل برداشت قرار دیتے ہوے کہا کہ مالی بدعنوانی میں ملوث ڈاکٹروں کی فہرست مفاد پرستی کا واضح ثبوت ہے
بقول انکے حکومت عوام کو صحت کی سہولتوں سے محروم کرنے والوں کو بے نقاب کرے گی