سلام آباد ( خبردار ڈیسک ) پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جوابی حملے کیے ہیں، جس سے خطے میں جنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔اا
بھارت کی جانب سے 6 مئی 2025 کو بھارت نے “آپریشن سندھور” کے تحت پاکستان اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں نو مقامات پر میزائل حملے کیےگئے۔
بھارتی حکام کے مطابق، ان حملوں کا مقصد دہشت گردوں کی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا تھا، جن میں جیش محمد اور لشکر طیبہ کے ٹھکانے شامل تھے۔
پاکستانی حکام نے ان حملوں کو “بلا اشتعال اور کھلا جنگی عمل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں شہری علاقے، مساجد اور رہائشی بلاک نشانہ بنے، جس کے نتیجے میں کم از کم26 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔
جس کے بعد پاکستان نے جوابی حملہ کیا ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے بھارت کے حملے کے جواب میں جوابی کارروائی کی۔
اور پاکستانی فضائیہ نے پانچ بھارتی جنگی طیارے مار گرائے اور ایک بھارتی بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو تباہ کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اس کارروائی کو “جنگی عمل” قرار دیتے ہوئے سخت جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔
دونوں ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول پر شدید گولہ باری کا تبادلہ جاری ہے، جس میں دونوں طرف شہری ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس اور امریکی حکام نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
نے بھارتی حملوں کو “شرمناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ یہ تنازع جلد ختم ہو جائے۔
یہ کشیدگی دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان براہ راست جنگ کے خطرات کو بڑھا رہی ہے۔ بین الاقوامی برادری کی کوششوں کے باوجود، بھارت کی جانب سے کشیدگی میں کمی آتی نظر
نہیں آ رہی، اور خطے میں جنگ کے بادل بدستور منڈلا رہے ہیں۔