اسلام آباد (خبردار نیوز ڈیسک ) پاکستان اور افغانستان کے درمیان برسوں سے جاری تناؤ ایک خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ پاکستانی فضائیہ نے رات گئے افغانستان کے دارالحکومت کابل، قندھار اور جلال آباد سمیت کئی اہم مقامات پر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے بعد پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسے “کھلی جنگ” قرار دے دیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی افغان سرحد کی جانب سے ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ پاکستان نے اسے “آپریشن غضب الحق” کا نام دیا ہے۔
پاکستانی طیاروں نے کابل میں طالبان کے دفاعی مقامات، قندھار میں فوجی ہیڈ کوارٹرز اور جلال آباد میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور ترجمان وزیراعظم مشرف زیدی کے مطابق ان حملوں میں 130 سے زائد افغان جنگجو مارے گئے ہیں اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہا کہ “ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، اب یہ ہمارے درمیان ایک کھلی جنگ ہے۔”
دوسری جانب جلال آباد اور طورخم کے قریبی علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ان جھڑپوں کی زد میں آکر کئی عام شہری بھی زخمی ہوئے ہیں اور سرحدی دیہاتوں سے نقل مکانی شروع ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کا مسلسل موقف رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔جبکہ بڑے پیمانے پر ٹی ٹی پی کے ٹھکانے افغانستا ن میں موجود ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہورہے ہیں جس کے باعث ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگانے کے معاملے پر دونوں افواج کے درمیان اکثر جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔
واضع رہے کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان کے مختلف شہروں (بشمول باجوڑ اور بنوں) میں ہونے والے دہشت گردی کی حالیہ حملوں کے بعد پاکستان نے سخت فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا۔
جس کے باعث اس وقت طورخم اور چمن بارڈر ہر قسم کی آمد و رفت اور تجارت کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔ سرحد کے دونوں اطراف بھاری اسلحہ اور ٹینکوں کی نقل و حرکت دیکھی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطہ کسی بڑی جنگ سے بچ سکے