ایران پر امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ، 3 دھماکے

تہران ( خبردار ڈیسک ) تہران سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے حملے ہوئے ہیں بتایا گیا ہے کہ ایران کے دارالحکومت تہران کے قلب میں واقع تہران

یونیورسٹی اور اس سے ملحقہ انقلاب اسٹریٹ (خیابانِ انقلاب) میں متعدد میزائل گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے اس قدر شدید تھے کہ ان کی آواز دور دور تک سنی گئی اور قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق میزائلوں نے تہران یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ اور اس کے گردونواح کے گنجان آباد تجارتی و تعلیمی مراکز کو نشانہ بنایا۔

دیگر اطلاعات کے مطابق کئی گاڑیوں میں آگ لگ گئی ہے اور عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ رہی ہیں، تاہم جانی نقصان کے حوالے سے ابھی تک

کوئی حتمی سرکاری اعداد و شمار سامنے نہیں آئے۔

دوسری جانب ایران کی جانب سے سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی اور حملے کے فوراً بعد ایرانی سیکیورٹی فورسز نے تہران یونیورسٹی اور انقلاب اسٹریٹ کی طرف جانے والے تمام راستوں

کو سیل کر دیا ہے۔ شہر بھر میں سائرن بج رہے ہیں اور فضا میں جنگی طیاروں کی پروازیں دیکھی جا رہی ہیں۔

واضع رہے کہ تہران یونیورسٹی کی اسٹریٹ کا علاقہ صرف ایک تعلیمی مرکز نہیں بلکہ اس کو ایران کا سیاسی مرکز سمجھا جاتا ہے جہاں نمازِ جمعہ اور بڑے احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں۔

یہ علاقہ حکومتی دفاتر اور اہم اداروں سے زیادہ دور نہیں ہے۔یہاں روزانہ لاکھوں طلباء اور عام شہریوں کی آمد و رفت رہتی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، یہ حملہ خطے میں جاری بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران کے مرکز کو نشانہ بنانا ایک انتہائی سنگین

اقدام ہے جس کے جواب میں پورے خطے کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

ایرانی حکام یا پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ان حملوں کے بعد اسرائیل کو سخت جواب دیا جائے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں