بلوچستان میں بارشیں 7 افراد جان بحق 4 زخمی

کوئٹہ ( خبردار نیوز ) بلوچستان میں حالیہ موسمی صورتحال کے باعث مختلف اضلاع میں جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے کی

جانب سے مختلف علاقوں میں امدادی اور ریسکیو کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔

پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق یکم اپریل 2026 تک صوبے کے مختلف علاقوں میں اگرچہ بارش ریکارڈ نہیں ہوئی تاہم کوئٹہ، گوادر، ہرنائی، لورالائی اور دیگر اضلاع میں مطلع ابر

آلود رہا۔ حالیہ صورتحال کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر 7 افراد جاں بحق جبکہ 4 زخمی ہوئے ہیں۔

جاں بحق افراد کا تعلق کوہلو، تربت، جعفرآباد، لورالائی اور کچی سے ہے۔

ضلع کچی میں دریائے ناری کے بند میں شگاف پڑنے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، جہاں 100 سے زائد مکانات منہدم، تقریباً 400 ایکڑ زرعی اراضی زیر آب اور 50 سے زائد مویشی

ہلاک ہو گئے۔

ضلع ہرنائی میں ایک مکان کی چھت گرنے سے نقصان ہوا جبکہ 60 سے زائد گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

سیلابی صورتحال کے باعث جھل مگسی میں گنداوا اور نوتا ل کے درمیان سڑک ٹریفک کے لیے بند ہو گئی ہے جبکہ ہرنائی سے سنجاوی اور کوئٹہ جانے والی شاہراہیں بھی متاثر ہیں۔

مختلف علاقوں میں فلیش فلڈنگ کی اطلاعات ہیں، خصوصاً قلعہ عبداللہ میں شدید بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی دیکھی گئی۔

اس دوران قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان میں سیلابی پانی میں پھنسے 15 خواتین اور بچوں کو بحفاظت نکال لیا گیا جبکہ دیگر گاڑیوں کو بھی ریسکیو کیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں

میں امدادی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور بند کی مرمت سمیت بحالی کا کام جاری ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق تمام ریسکیو عملہ ہائی الرٹ پر ہے جبکہ ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

گلستان میں سیلابی ریلے میں 15 خواتین و بچوں کو لے جانے والی ایک منی کوچ پھنس گئی تھی۔ ڈپٹی کمشنر نے ذاتی نگرانی میں ریسکیو آپریشن مکمل کرواتے ہوئے تمام مسافروں کو

بحفاظت نکالا

جبکہ پی ڈی ایم اے کی ایکسکیویٹر مشینری کے ذریعے گاڑی کو بھی نکال لیا گیا۔ مزید برآں، مچھکا اسٹریم میں مختلف مقامات پر پھنسنے والی دو مزید گاڑیوں کو بھی بحفاظت ریسکیو کر لیا

گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں