اسلام آباد: پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات کو “اسلام آباد کارڈ” (Islamabad Accord) کا نام دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگی صورتحال
کو مستقل جنگ بندی میں تبدیل کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق، امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی ونس (JD Vance) کریں گے، جن کے ہمراہ صدر ٹرمپ کے خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔
دوسری جانب ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کریں گے۔ یہ 1979 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ہونے والا اعلیٰ ترین سطح کا
رابطہ ہے۔
مذاکرات میں دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کو مستقل کرنے، آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو تجارتی آمد و رفت کے لیے کھولنے اور ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی جیسے اہم
نکات زیرِ بحث آئیں گے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار ان مذاکرات کی سہولت کاری کر رہے ہیں۔
اس اہم ملاقات کے پیشِ نظر اسلام آباد کے “ریڈ زون” کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور شہر بھر میں سکیورٹی انتہائی ہائی الرٹ پر ہے۔