چمن (بیورو رپورٹ): اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں صوبے کے اندر کسی ‘ان ہاؤس’ تبدیلی کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا، تاہم
کابینہ میں معمولی ردو بدل ہو سکتا ہے۔
چمن میں بنیادی صحت مراکز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے انکشاف کیا کہ 2024 میں حکومت سازی کے وقت پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز
پارٹی کے درمیان ایک تحریری معاہدہ طے پایا تھا،
جس کے تحت دونوں جماعتوں نے آدھے آدھے ٹینور (مدت) کے لیے حکومت کرنی تھی۔ تاہم انہوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کی تاحال کوئی ضمانت نہیں ہے کہ اس
معاہدے پر مکمل عملدرآمد ہوگا یا نہیں۔
کیپٹن عبدالخالق اچکزئی کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) ہمیشہ صوبے کے وسیع تر مفاد میں فیصلے کرے گی۔ اگر مستقبل میں بلوچستان میں ن لیگ کی حکومت آتی ہے تو ہمارا مقصد چیزوں کو
مزید بہتر بنانا ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ن لیگ کی حکومت کے لیے صوبے میں صحت اور تعلیم کے شعبے سب سے بڑے چیلنجز ہوں گے جن پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
موجودہ حکومت کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے کی تعمیر و ترقی کے لیے ریکارڈ کام کیے ہیں۔
افتتاحی تقریب کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ چمن میں بنیادی صحت مراکز کا قیام عوامی سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ دور دراز علاقوں کے
عوام کو ان کی دہلیز پر علاج معالجے کی بہترین سہولیات میسر آئیں۔