کوئٹہ ( خبردارنیوز ) عوامی نینشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ
آپریشن عزم استحکام کو کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا ہم کوئی پاگل نہیں کہ ریاست سے لڑیں
یہ بات انہوں نے چمن کے عیدگاہ گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لڑیں گے نہیں لیکن وقت انے پر ظلم کا حساب لیا جاے گابقول انکے کے کفر کے عاشرے میں جیا جاسکتا
ہے لیکن ظلم کے نظام میں نہیں
اصغر خان اچکزئی کا مذید کہنا تھا پشتونوں اور بلوچوں کے وسائل پر قبضہ تسلیم نہیں کرینگے
تعجب ہے دہشت گردی کے مراکز پنجاب میں جبکہ آپریشنز پشتونخوا اور بلوچستان میں کئے جاتے ہے’
اپنے خطاب میں انہوں نے چمن بارڈر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چمن بارڈر پر شناختی کارڈ اور تذکیرے کا پرانا سسٹم بحال کیا جائے
پشتون قوم ہمیشہ دہشتگردی کا شکار رہا ہے
چمن دھرنے کے مطالبے کیلئے قوم پرست قوتیں متحد ہوجائیں فوج سے متعلق کہا کہ جب فوج سیاست میں مداخلت کرکے ائین کے خلاف ورزی کے مرتکب ہوگا تو ان کے کردار پر حرف
اٹھے گی
اپنے والد عوامی نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی سینئرنائب صدر شہید حاجی جیلانی خان بھائی ایڈوکیٹ عسکرخان اور کزن اسدخان اچکزئی جو عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے سابق ترجمان
ھے کے بارے میں اصغر خان اچکزئی کا یہ کہنا تھا کہ مذکورہ شہداء قوم اور وطن کی دفاع میں شہید ہوئے جس پر ہمیں فخر ہے انہوں نے
قوم پرست جماعتوں کو درپیش گھمبیر مشکلات سے جان چھوٹنے کیلئے اکٹھے ہونے کا مشورہ بھی دے دیا
آخر میں صدر اے این پی بلوچستان اصغرخان اچکزئی نے وفاقی حکومت سے چمن بارڈر پر پاسپورٹ فیصلہ واپس لینے چمن دھرنا کے مطالبات تسلیم کرنے اور آمدورفت کیلئے پرانا طریقہ
بحال کرنا کا مطالبہ کیا ۔