کوئٹہ ( خبردارنیوز ) وزیر اعلی بلوچستان میرسرفرازبگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں مزدور کے بچے اب مزدور نہیں رہیں گے بلکہ انہیں اعلی تعلیم دینے کے لیے اسلام آباد بھیجیں گے
انہوں نے 14 اگست کو کامیابی سے منانے پر پوری قوم کو مبارکباد دی
وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ڈپٹی کمشنر پنجگور ذاکر بلوچ کو جس بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا اس پر حکومت ان کے قاتلوں کو ضرور قانون کے کٹہرے میں
لاکرکھڑا کرے گی
یہ بات انہوں نے آج صبع کوئٹہ میں ایک پریس کانفر نس سے خطاب کے دوران کہی
وزیراعلی نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کو بی ایل اے کے کارندوں نے شہید کیا اور بلوچ روایات نہتے شہریوں کو اٹھانا اور شہید کرنے کی اجازت نہیں دیتاہے
انہوں نے ہوشاب کالج کا نام تبدیل کر کے شہید ذاکر بلوچ رکھنے کا اعلان کرتے ہوے بتایا کہ شہید کے لواحقین اور بچوں کی تعلیم کے تمام اخراجات بلوچستان حکومت اٹھائی گی، شہید کے
بچے جہاں پڑھنا چاہتے ہیں وہاں ان کو پڑھایا جائے گا
میر سرفراز بگٹی نے تمام پاکستانیوں کو 14 اگست کی مبارکباد دیتے ہوے کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں 14 اگست کے پر امن تقاریب کا انعقاد ایک خوش آئند اقدام ہے
انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ شہر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ویسٹ منیجمنٹ سسٹم شروع کیا اور روزانہ کے بنیاد پر 16 سو ٹن کچرا اٹھایا جائے گا
وزیراعلی کے طابق حکومت کی جانب سے چمن کے شہریوں کو مفت پاسپورٹ دینا شروع کیا ہے
انہوں نے اعلان کیا کہ مزدور کے بچے اب مزدور نہیں رہنے گے اور 5 سو مزدور کے بچوں کو اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں تعلیم اور تربیت کے لیے بیھج رہے ہیں، میر سرفراز بگٹی
وزیراعلی نےیہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ساتھ تین مرتبہ حکومت نے مذاکرات کئے اور ہر بار بلوچ یکجہتی کمیٹی نے مذاکرات کی خلاف ورزی کی
یاد رہے ڈپٹی کمشنر پنجگور زاکر بلوچ کو نامعلوم افراد نے اس وقت مستونگ کے قریب فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا جب وہ 12 اگست کو پنجگور کے براستہ مستونگ کوئٹہ کی جانب آرہے
تھے