پاکستان ابادی کے لحاظ سے پانچویں سے چوتھا بڑا ملک بن گیا- مصطفی کمال

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی، صحت کے بحران اور قومی مالیاتی کمیشن (NFC) کے موجودہ فارمولے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن چکا ہے،
لیکن موجودہ انتظامی ڈھانچے کے باعث فنڈز نچلی سطح تک منتقل نہیں ہو پا رہے جس کے حل کے لیے آئینی ترمیم ناگزیر ہے۔
قومی اسمبلی بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے ملک میں بنیادی صحت کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو اس وقت 6 ہزار سے زاہد نئے پرائمری ہسپتالوں کی فوری ضرورت ہے۔
مصطفی کمال نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “یہاں خواتین زچگی کے دوران دم توڑ دیتی ہیں، اگر ہم 11 ہزار ماؤں کو بچائیں گے تو درحقیقت ہم انسانیت کو بچائیں گے۔”
این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے صوبوں کے درمیان فنڈز کی تقسیم کا زکر کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام میں فنڈز کی تقسیم کا بڑا دارومدار آبادی پر ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ “اگر بلوچستان کو پنجاب جتنا بجٹ چاہیے تو اسے اپنی آبادی پنجاب کے برابر کرنا ہوگی، جو کہ ممکن نہیں۔
جب تک ہم اس بنیادی مسئلے کو ٹھیک نہیں کریں گے، ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔”
وفاقی وزیر نے مطالبہ کیا کہ این ایف سی فارمولے میں آبادی کے تناسب کو موجودہ 82 فیصد سے کم کر کے 50 فیصد پر لایا جائے تاکہ رقبے اور پسماندگی کو بھی حق مل سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ نظام کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ فنڈز صوبوں کے پاس تو چلے جاتے ہیں لیکن نچلی سطح پر عوام تک نہیں پہنچتے۔
ان کا مذید کہنا تھا کہ اس سنگین انتظامی اور مالیاتی عدم توازن کو درست کرنے کے لیے ان کی جماعت کی جانب سے ایک اہم آئینی ترمیم بھی تجویز کی گئی ہے تاکہ اختیارات اور فنڈز کی نچلی سطح تک منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں