کوئٹہ ( خبر دار نیوز ) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دشمن کی یہ گہری سازش ہے کہ وہ خود دہشت گردی کرے، معصوم شہریوں کو نشانہ بنائے اور پھر اس کا سارا الزام ریاست پر عائد کر دے۔
انہوں نے واضح کیا کہ لاشوں پر سیاست کرنا انتہائی باعثِ افسوس ہے اور اگر میری جان دینے سے بلوچستان کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے تو میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے بھی تیار ہوں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز کوئٹہ میں شہید نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی کی آٹھویں برسی کے موقع پر منعقدہ ایک بڑے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اپوزیشن اور دھرنا دینے والوں کو سخت جواب دیتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ماضی میں کھڈکوچہ، سانحہ 8 اگست اور پولیس لائنز حملوں جیسے بڑے سانحات کے بعد بھی استعفوں سے مسائل حل نہیں ہوئے، مسائل کا حل صرف عملی اقدامات میں ہے۔
انہوں نے کہا، “اپوزیشن میری گورننس، انتظامی امور اور کوتاہیوں پر ضرور تنقید کرے، یہ ان کا حق ہے، لیکن شہداء کی لاشوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا کسی طور مناسب نہیں۔”
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ماشکیل میں بے گناہ مزدوروں کو شہید کیا گیا مگر ان کے ورثاء نے کہیں دھرنا نہیں دیا۔
اسی طرح چند روز قبل میر شفیق الرحمان مینگل کے گھر پر حملہ ہوا، انہوں نے اپنے شہداء کو عزت کے ساتھ سپردِ خاک کیا اور لاشوں پر سیاست نہیں کی۔ اگر ان کا مقصد بھی سیاست چمکانا ہوتا تو وہ تدفین کے بجائے دھرنا دے کر بیٹھ جاتے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم خود شہداء کے وارث ہیں، اسی لیے ہم ببری، ہنہ اڑک اور زیارت کے واقعات کے متاثرین کے پاس خود گئے اور ان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ ہم شہداء کے لہو کی خاطر لواحقین کے تمام جائز مطالبات ماننے کو تیار ہیں اور صوبائی حکومت و اسمبلی اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کرسی آنی جانی چیز ہے، میرا اصل مقصد صرف اور صرف بلوچستان کے عوام کی خدمت کرنا ہے۔
سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان کی فوج، ایف سی، پولیس اور تمام اداروں کے جوان بحالیِ امن کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، ہم اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑے تھے اور ہمیشہ کھڑے رہیں گے۔
انہوں نے کٹر دشمن بھارت کو للکارتے ہوئے کہا، “بھارتی سرپرست کان کھول کر سن لیں، تم کتنے ہی سراج رئیسانی شہید کرو گے؟ اب بلوچستان کے ہر گھر سے ایک سراج رئیسانی اٹھے گا۔ شہید نوابزادہ کا مشن جاری رہے گا اور ان کی قربانی قوم کے لیے مشعلِ راہ ہے۔”
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے عزم ظاہر کیا کہ تشدد اور دہشت گردی کے ذریعے بلوچستان کو پاکستان سے کبھی الگ نہیں کیا جا سکتا۔ شرپسند عناصر ہمارے معصوم نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں، وہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی میں رکاوٹ تو بن سکتے ہیں مگر پاکستان اور بلوچستان کو امن و استحکام کے راستے سے پیچھے نہیں ہٹا سکتے۔
انہوں نے اعادہ کیا کہ صوبے میں پائیدار امن، صحت، تعلیم اور عوام کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
ہر گھر سے سراج رئیسانی اٹھے گا؛ لاشوں پر سیاست کرنے والے ملک دشمنوں کا ایجنڈا پورا کر رہے ہیں: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی

Leave a Reply