کوئٹہ ( خبردارنیوز ) بلوچستان ہائی کورٹ کے جج عبداللہ بلوچ کی سربراہی میں الیکشن ٹربیونل نے بلوچستان اسمبلی کے رکن علی مدد جتک کی نہ صرف
رکنیت ختم کردی ہے بلکہ ان کا نام وزارت سے بھی نکال دیا ہے۔
بلوچستان ہائی کورٹ کے جج اور صوبائی الیکشن ٹربیونل کے رکن عبداللہ بلوچ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق صوبائی صدر اور بلوچستان اسمبلی کے
رکن علی مدد جتک کی بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 45 کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ سنایا۔
جس میں الیکشن ٹریبونل کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مذکورہ حلقے کی 15 پولنگ اسٹیشنز پر دوسری بار انتخابات کرائے جائیں۔
اس کے علاوہ الیکشن ٹریبونل نے پنے حکم میں علی مدد جتک کی اسمبلی کی رکنیت ختم کر دی ہے بلکہ انہیں وزارت سے ہٹانے کا حکم دیا ہ
یاد رہے کہ حاجی علی مدد جتک پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور بعد ازاں انہوں نے بلوچستان کے وزیر زراعت کے
طور پر کام شروع کیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس عبداللہ بلوچ کی سربراہی میں الیکشن ٹربیونل نے بلوچستان کے سابق وزیر داخلہ میڑ ضیاء
لانگو کے حلقے میں 7 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ انتخاب کرانے کا فیصلہ دیا تھا
جس سے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا تاہم انکے مخالف وکیل کے مطابق سپریم کورٹ نے انکی درخواست کو مسترد کرتے ہوے الیکشن ٹریبونل کا
فیصلہ برقرار رکھا