کوئٹہ میں اسٹریٹ کرائمز اور سنگین جرائم کے خلاف پولیس کا بڑا کریک ڈاؤن: 20 سے زائد ملزمان ہلاک

کوئٹہ (خبردار نیوز)ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عمران شوکت نے دیگر سینئر پولیس افسران کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہر میں امن و امان کی صورتحال، اسٹریٹ کرائمز کے خلاف جاری کارروائیوں اور سنگین کیسز کی تفتیش کے حوالے سے تفصیلات جاری کی ہیں۔
​ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت کا کہنا تھا کہ ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں اسٹریٹ کرائم میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے، تاہم پولیس نے اس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے موثر اقدامات کیے ہیں۔
گزشتہ تین ماہ کے دوران اسٹریٹ کرائم کے خلاف پولیس کارروائیوں میں 20 سے زائد ملزمان مارے گئے ہیں جبکہ متعدد کو گرفتار کر کے جیل بھیجا جا چکا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہگھروں میں ڈکیتی کرنے والا منظم گینگ کے 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے،
جن کے قبضے سے وارداتوں میں استعمال ہونے والی گاڑی، اسلحہ اور دیگر مسروقہ سامان برآمد کیا گیا ہے۔
​ تاجر ہاشم نورزئی کے قتل میں ملوث اہم ملزم کو گرفتار کر کے اس کیس کو کامیابی سے حل کر لیا گیا ہے۔
ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینکنے کے کیس کا ملزم بھی اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکا ہے۔
​سریاب میں ہونے والی بینک ڈکیتی کی تفتیش سی ٹی ڈی کے سپرد ہے اور پولیس ملزمان کے انتہائی قریب پہنچ چکی ہے، جنہیں جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
ڈی آئی جی پولیس نے واضح کیا کہ لاک اپ یا تھانے کے اندر کسی بھی ملزم کا انٹرویو کرنا مکمل طور پر غیر قانونی اقدام ہے۔
انہوں نے بچوں کی ہراسگی کے حوالے سے بتایا کہ پولیس کو ایک غیر رسمی اطلاع ملی تھی جس پر فوری ایکشن لیتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جس بچے کے ساتھ بھی زیادتی ہوئی ہے، اسے ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا۔
عمران شوکت نے بتایا کہ اگست اور ستمبر کے مہینوں میں سیکورٹی کا ‘تھریٹ لیول’ ہائی تھا، لیکن پولیس اور تمام دیگر اداروں نے مل کر بلوچستان اور کوئٹہ کو محفوظ بنانے کے لیے بہترین اور موثر اقدامات کیے ہیں۔
​انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ پولیس میں کالی بھیڑوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ بلوچستان پولیس میں ڈیجیٹل نظام کے تحت 100 فیصد میرٹ پر بھرتیاں عمل میں لائی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی استعداد کار کو مسلسل بڑھایا جا رہا ہے اور آنے والے دنوں میں امن و امان کی صورتحال میں مزید بہتری آئے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں