بلوچسستان میں تعلیم کی بہتری کے لیے 100ملین ڈالرکامنصوبہ

کوئٹہ ( خبردار نیوز ) بلوچستان کابینہ کا اجلاس وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت منعقد ہوا ، ترجمان صوبائی حکومت
بلوچستان کابینہ نے مفاد عامہ میں اہم فیصلے کئے ،
ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے بعد مین پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوےکہا کہ بلوچستان واٹر ریسورسز ڈویلپمنٹ سیکٹر پروگرام کے لئے فنڈز کے اجراء کی منظوری دے دی گئی ،
ورلڈ بینک کے سوفٹ لون کے تحت پروگرام پر عمل درآمد کیا جائے گا،
منصوبے سے زرعی پانی کے درست استعمال اور واٹر مینجمنٹ کو یقینی بنایا جائے گا،
بلوچستان کابینہ نے پالیسی گائیڈ لائن فار ٹریڈنگ ان کاربن مارکیٹس کی منظوری بھی دی،
گائیڈ لائن کے تحت وفاقی سطح پر کاربن مارکیٹ ورکنگ گروپ بنے گا،
شاہد رند کے مطابق ورکنگ گروپ میں چاروں صوبوں کی نمائندگی ہوگی،اور بلوچستان سمیت چاروں صوبوں کی باہمی مشاورت سے کاربن مارکیٹ سے متعلق پالیسی بنے گی ،
انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے ریڈیو پاکستان سریاب روڑ کوئٹہ کی اراضی پر کرکٹ اکیڈمی کی تعمیر کا منصوبہ بنایا ، بارہا کوششوں کے باوجود ریڈیو پاکستان یہ اراضی دینے کے لئے راضی نہیں ہوا
ریڈیو پاکستان بھی ریاست کا ایک ادارہ ہے صوبائی حکومت کسی تنازعہ میں پڑنا نہیں چاہتی کرکٹ اکیڈمی کو مناسب متبادل جگہ پر تعمیر کا فیصلہ کیا ہے،
ترجمان کے مطابق بلوچستان کابینہ نےصوبے کے دور دراز علاقوں کے اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے کی منظوری دی ، اسکولوں میں بنیادی سہولیات اور معیار تعلیم کی بہتری کیلئے ورلڈ بنک کے تعاون سے منصوبہ شروع کیا جائے گا،
کابینہ نے ایک سو ملین ڈالر کے پانچ سالہ منصوبے کی منظوری دے دی ہے، منصوبے کے تحت معیار تعلیم کی بہتری اسکولوں سے باہر بچوں کو اسکولوں میں داخلے اور فاصلاتی مسائل کے حل کیلئے اقدامات کئے جائیں گے،
صوبائی کابینہ نے بلوچستان فاونڈیشنل لرننگ پالیسی کی منظوری بھی دی ہے، یہ پالیسی بھی تعلیمی اصلاحات کے تسلسل میں صوبے میں معیاری فروغ تعلیم اور شرح خواندگی میں اضافے میں معاون ثابت ہوگی
بلوچستان کابینہ نے ٹیچرز کے تقرر، تعیناتی اور تبادلے سے متعلق ریگولرٹی ایکٹ 2024 کی بھی منظوری دی یہ ایکٹ ٹیچرز کی عارضی بھرتی پالیسی کو قانونی حیثیت دینے کے لئے لایا جاررہا ہے،
انہوں نے بتایا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد یہ ایکٹ بلوچستان اسمبلی میں پیش کیا جائے گا ،یونین کونسل اور مقامی سطح پر بھرتی ہونے والے اساتذہ کا تبادلہ کہیں اور نہیں کیا جاسکے گا،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں