مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں درخواست

کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر)بلوچستان میں متنازعہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے خلاف جمعیت علماء اسلام (ف) نے قانونی اور سیاسی محاذ کھول دیا ہے۔

جے یو آئی بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع اور معروف قانون دان کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے بلوچستان ہائی کورٹ میں اس ایکٹ کو چیلنج کر دیا۔

مولانا واسع کا کہنا ہے کہ اگر یہ قانون نافذ ہوا تو لوگ یہاں رہنے کے قابل نہیں رہیں گے

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا واسع نے کہا “آج ہم نے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کو بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ اور اگر یہ ایکٹ نافذ ہوگیا تو بلوچستان کے لوگ یہاں رہنے کے

قابل نہیں رہیں گے۔”

انہوں نے کہا کہ جے یو آئی پاکستان کے ہر فورم پر اس قانون کے خلاف آواز بلند کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری مخالفت کے باعث قومی اسمبلی اور سینیٹ سے یہ بل واپس لیا گیا تھا، مگر بلوچستان اسمبلی میں منظوری کے وقت ہمارے اراکین کو اندھیرے میں رکھا گیا۔

کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس ایکٹ کی منظوری غیر آئینی طریقے سے ہوئی اور “یہ ایکٹ بلوچستان کے عوام کے وسائل پر وفاقی قبضے کی کوشش ہے

جسے کسی صورت  برداشت نہیں کریں گے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ”ہماری پارٹی کے پاس اس وقت اسٹینڈنگ کمیٹی کی چیئرمین شپ تھی۔””میرے غیر موجودگی میں کمیٹی میں بل پاس کیا گیا، جو غیر آئینی ہے۔

“”ہم یہ ایکٹ ختم کرا کے رہیں گے۔”

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کے وسائل یہاں کے عوام کے ہیں، ان پر وفاق کا کوئی حق تسلیم نہیں۔

ہم کسی کو بلوچستان کے قدرتی ذخائر پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے۔”

یاد رہے کہ گذشتہ روز بھی ساراوان ہاوس میں سابق سنیٹر نوابزادہ لشکری رہیسانی کی قیاد ت میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھاکہ مائنز اینڈ منرل ایکٹ کو چیلنج کیا جاے گا

جس میں تجزیہ اور ریسرچر آفراسیاب خٹک ، نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر ڈاکٹراسحاق بلوچ سمیت وکلاٰٰء اور سنیڑ صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی بھی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں