مائنز اینڈ منرل ایکٹ: بلوچستان ہائیکورٹ میں پٹیشن ، لشکری رئیسانی

کوئٹہ ( نمائندہ خصوصی) بلوچستان ہائیکورٹ میں مائنز اینڈ منرل ایکٹ 2025 کے خلاف پٹیشن دائر کیے جانے کے بعد نوابزادہ لشکری رئیسانی نے میڈیا سے

گفتگو کرتے ہوئے اس قانون کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایکٹ بلوچستان کے عوام کے حقوق پر ڈاکا ہے اور اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

نوابزادہ لشکری رئیسانی نے کہا کہ”آج ہم نے مائنز اینڈ منرل ایکٹ 2025 کے خلاف بلوچستان ہائیکورٹ میں باضابطہ پٹیشن دائر کی ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون ایک ڈمی حکومت نے بنایا ہے، جس کی کوئی آئینی یا اخلاقی حیثیت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ”یہ کالا قانون بلوچستان کے عوام پر مسلط کیا گیا ہے، جسے ہم مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔”

لزامات اور خدشات

لشکری رئیسانی نے دعویٰ کیا کہ”اسی کالے قانون کے تحت 17 نئے الاٹمنٹس کیے گئے ہیں اور غیرمقامی افراد کو لاکھوں ایکڑ اراضی الاٹ کی گئی ہے۔

بقول انکے یہ ہمارے آنے والی نسلوں کا سودا ہے، جو ہم ہرگز قبول نہیں کریں گے۔”

انہوں نے ایکٹ کو “ڈاکہ زنی کا قانون” قرار دیا اور کہا کہ اس کے ذریعے بلوچستان کے وسائل کو غیر شفاف طریقے سے لوٹا جا رہا ہے۔

عوام اور سیاسی قوتوں سے اپیل

نوابزادہ لشکری رئیسانی نے بلوچستان کے سماجی کارکنوں، مقامی افراد اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اس قانون کے خلاف متحد ہو کر آواز بلند کریں۔

“بلوچستان صوبائی اسمبلی کو نہ صرف اخلاقی طور پر بلکہ جمہوری اعتبار سے بھی یہ حیثیت حاصل نہیں کہ وہ عوام دشمن قانون سازی کرے۔”

یاد رہے کہ اس سے قبل جمعیت علماء اسلام اور پشتونخواملی عوامی پارٹی بھی مائنز اینڈ منرل ایکٹ کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر چکے

ہیں

بلوچستان حکومت نے روان برس 12 مارچ کو یہ قانون بلوچستان اسمبلی سے پاس کیا تھا جس میں جمعیت علماء اسلام سمیت اپوزیشن کے دیگر جماعتوں کے بعض

ارکان نے مائنز اینڈ منرل ایکٹ کے حق میں ووٹ دیا تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں