کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ایس ایچ او جان بحق ،
واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گہرے میں لےکر سرچ آپریشن شروع کی ہے
تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں ائی ہے
واقعہ پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکام کو ہدایت کی ہے
کہ وہ فوری طور پر ملزمان کو گرفتار کریں ا
طلاعات کے مطابق اتوار کی شام کو سمگلی روڈ پر کلی اسماعیل کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے ایس ایچ او میٹھا خان کی گاڑی پر فائرنگ کی
جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے جنہیں ایمبولنس کے ذریع سول ےہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ زخموں کی تابنہ لاتے ہوءے ہسپتال میں چل بسے
واقعے کے بعد پولیس نے علاقے میں سرچ اپریشن شروع کی ہے تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں ائی ہے
اور نہ ہی کسی نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے
واقعہ پر وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بکٹی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس حکام کو ہدایت کی
کہ وہ فوری طور پر ملزمان کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچائے
یاد رہے کہ بلوچستان کا دارحکومت کوئٹہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے امن و امان کے حوالے سے تشویش ناک ہے زیادہ تر اوقات میں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے پولیس اور سیکیورٹی فورسز پر حملے ہوتے رہتے ہیں
بالخصوص رواں سال کے 31 جنوری کو سریاب کے علاقے میں مسئلہ افراد نے پولیس اور سیکیورٹی فورسز پر کئی حملے کیے تھے
جس کے نتیجے میں 20 کے قریب پولیس اہلکار جان بحق ہو گئے تھے