کوئٹہ (نمائندہ خصوصی): وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ایک کامیاب آپریشن میں خودکش بمبار خاتون کو زندہ گرفتار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے
اسے معصوم جانوں کو بچانے کی سمت میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
کوئٹہ میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے بلوچستان میں ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار
کیا کہ دہشت گرد تنظیمیں، جن میں ‘بشیر اینڈ کمپنی’ اور بی ایل اے شامل ہیں، بلوچ روایات کی دھجیاں اڑا رہی ہیں۔
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ پشتون “بلوچ معاشرے میں خواتین کا بے حد احترام ہے، لیکن ان تنظیموں نے خواتین کو اپنے مذموم مقاصد اور خودکش حملوں کے لیے استعمال کر کے ان روایات
کو ختم کر دیا ہے۔”
وزیراعلیٰ نے بلوچ عوام اور نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ بلوچستان کے نام پر انہیں کس راستے پر ڈالا جا رہا ہے؟
انہوں نے واضح کیا کہ یہ ایک لاحاصل جنگ ہے جس میں خونریزی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے معاشرے کے تمام طبقات پر زور دیا کہ وہ اس صورتحال پر سنجیدگی سے غور
کریں۔
گرفتار ہونے والی خاتون کے حوالے سے اہم تفصیلات بتاتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہریاست اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہے اور خاتون کے ساتھ مکمل عزت و احترام سے پیش آیا جا رہا
ہے۔
ایک سوال کے جوا ب میں وزیراعلی کا کہنا تھا کہ خاتون سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔
اور اسے تین ماہ تک ایک مخصوص سینٹر میں رکھا جائے گا جہاں اس کی تفتیش کے ساتھ ساتھ ذہنی سازی کی جائے گی تاکہ اسے گمراہی کے راستے سے نکالا جا سکے۔
میر سرفراز بگٹی نے ایک بار پھر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریاست کسی کو بھی معصوم شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں
دے گی