نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی انتقال کر گئے

کوئٹہ (خبردار نیوز) نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی جمہوری وطن پارٹی کے سابق سربراہ وزیرا علیٰ ، گورنر اور وفاقی وزیر نواب محمد اکبر بگٹی کے صاحبزادے تھے جو گزشتہ روز 76 برس کی عمر میں حرکت قلب بند ہونے سے کراچی میں خالق حقیقی سے جا ملے
وہ نواب اکبر بگٹی کے 6 بیٹوں میں سے دوسرے نمبر پر تھے۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم سینٹ فرانسس گرائمر سکول کوئٹہ سے حاصل کی اس کے بعد انہیں ان کے والد نے اعلیٰ تعلیم کیلئے ایڈورڈ کالج پشاور بھیج دیا
جہاں انہوں نے گریجویشن مکمل کی اور 71 کی دہائی میں فارن سروس میں ملازمت اختیار کرلی
اس وقت ذوالفقار علی بھٹو اور نواب اکبر بگٹی کے درمیان تعلقات کشیدہ ہونے پر فارن سروس کی ملازمت چھوڑ دی جس کے بعد انہوں نے پی پی ایل میں ملازمت اختیار کرلی
اور جب ان کے والد نواب اکبر بگٹی پہاڑوں میں گئے تو انہیں ملازمت سے فارغ کردیا گیا ان کے بڑے بھائی نوابزادہ سلیم اکبر بگٹی کی موت بھی حرکت قلب بند ہونے سے ہوئی
اور ان کے دوسرے بھائی نوابزادہ ریحان اکبر بگٹی کی طبی موت ہوئی جبکہ نوابزادہ سلال اکبر بگٹی کو قتل کیا گیا اور نوابزادہ طلال اکبر بگٹی کی بھی طبی موت ہوئی نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی نے پسماندگان میں 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا چھوڑا ہے
نوابزادہ سلال اکبر بگٹی کے قتل کے بعد کراچی میں واقع ضیاء الدین ہسپتال کے واقعہ کے الزام میں وہ جیل میں بھی رہے
اور 2004ء میں انہوں نے کوئٹہ کے علاقے میاں غنڈی میں اپنی رہائشگاہ بنائی اور2014-15ء میں گزشتہ 10 سال قبل کراچی سے کوئٹہ میاں غنڈی شفٹ ہوگئے تھے
اور ان دنوں بھی میاں غنڈی میں رہائش پذیر تھے گزشتہ کچھ دنوں سے کراچی گئے ہوئے تھے
انہوں نے اپنے قریبی دوستوں اور حلقہ احباب سمیت عزیز و اقارب کو وصیت کی تھی کہ ان کی تدفین میاں غنڈی میں ان کی رہائش گاہ کے باہر کی جائے
نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی سخت اور ٹھوس موقف اپنانے والے شخص تھے جنہوں نے ہمیشہ بلوچستان کے مسائل کے حل اور حقوق کے حصول کے حوالے سے واضح موقف اپنایا اور سوشل میڈیا پر بہت فعال رہتے تھے
اور اپنے نظریہ بے باک موقف رکھنے پر لوگوں میں جانے جاتے تھے 17 مارچ 2005ء کو ڈیرہ بگٹی پر ہونے والے حملے میں وہ اپنے والد نواب اکبر بگٹی کے ہمراہ تھے جس میں وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے
نوابزادہ جمیل اکبربگٹی نے ہمیشہ انصاف اور ساحل و وسائل کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے حوالے سے اپنا ٹھوس موقف اختیار کرتے تھے اپنے والد کی موت کے بعد وہ قوم پرست جماعتوں کے ساتھ ساتھ اپنے خاندان کے لوگوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے تھے جو حکومتی پالیسیوں کی حمایت یا نرم موقف رکھتے تھے۔
بلوچستان بلوچوں کے حوالے سے وہ اپنا ایک واضح اور ٹھوس موقف رکھتے تھے جس میں وہ بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل کرنا چاہتے تھے
لیکن حکومت گولیوں ، ٹارچر سیلوں اور لوگوں کو اٹھاکر بات چیت کرنا چاہتی ہے جس کو درست نہیں مانتے تھے۔انہوں نے اپنے والد کے قتل کے حوالے سے انصاف کے حصول کے لئے عدالتوں سمیت ہر فورم پر قانونی جنگ لڑی اس حوالے سے عدالت میں ان کا موقف تھا کہ مرحوم ریٹائرڈ سابق جنرل پرویز مشرف کو قانون کے کٹہرے میںلاکر سزا دی جائے۔
وہ اپنے والد کی طرح بلوچوں کو ایک سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے متحد کرنے خواہاں تھے کیونکہ وہ کہتے تھے کہ جب تک بلوچ مختلف جماعتوں میں تقسیم رہیں گے وہ مار کھاتے رہیں گے
ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے پران کا موقف سنا جائے گا۔ نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کے بچے بیرون ملک امریکہ ، ڈنمارک میں ہیں ان کی واپسی تک انہیں امانتاً کراچی میں آسودہ خاک کیا جائیگا
کیونکہ ایران ، امریکہ اور اسرائیل جنگ کی وجہ سے سفری سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے حالات کی بہتری پر ان کے بچوں کے واپس آنے پر ان کی وصیت کے مطابق تدفین کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں