کوئٹہ ( خبردار نیوز ) بلوچستان اسمبلی میں ارکان کی جانب سے صوبے میں امن وامان کی خراب صورتحال پر بحث جاری ہے
اپوزیشن لیڈر یونس زھری نے کہا کہ نصیرآباد میں جے یوآئی کے رہماء اسلم عمرانی کےقاتلوں کو گرفتار کیاجائے انکو پولیس کی موجودگی میں قتل کیاگیااور قاتلوں کے قائم کردہ مورچے
تاحال موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ جب پولیس کو کاروائی کرنی ہوتی ہے تو وہ چادروچاردیواری کی پروا نہیں کرتی لیکن اس کیس میں پولیس اپنی ذمہ داری پوری کرے
یونس زہری کے مطابق جے یوآئی کے قائدین پر حملے ہورہے ہیں اور حکومت خاموش ہے
رکن اسمبلی زاہد ریکی نے صوبے میں امن وامان کی صورتحال پر تشویشن کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ اغواء برائے تاوان اور قتل گری کابازار گرم ہے
خاران میں ایک زمینداربختیار مینگل کو دوہفتے سے اغواء کیاگیامگراسے بازیاب نہیں کرایاگیاہے اور اگر امن وامان کی حالت یہی رہی توبلوچستان ہاتھ سے نکل جائے گا
انہوں نے آئی جی پولیس سے اپنے عملے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اگر یہ حالات یہی رہے توہمیں بھی اغواء کرلیاجائے گا۔
پشین سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی ظفرآغا نے کہا کہ بلوچستان کےحالات اچھے نہیں ہیں اور پشین میں امن وامان کے حالات خراب ہیں
انہوں نے سوال کیا کہ منشیات فروشوں پر ہاتھ کیوں نہیں ڈالاجاتاجس کے باعث پشین میں آئے روز گاڑیاں چوری ہورہی ہیں مگر لیویز کے اہلکار ملزمان کے خلاف کاروائی نہیں کرتے ،