کوئٹہ: بلوچستان میں پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے سات روزہ انسدادِ پولیو مہم کا آغاز آج سے ہو رہا ہے، جس کے لیے صوبائی حکومت نے سیکیورٹی اور انتظامی سطح پر تمام
انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے۔
ایمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC) کے کوآرڈینیٹر انعام الحق قریشی کے مطابق، اس مہم کے دوران صوبے کے 26 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں
گے۔
مہم کی کامیابی کے لیے 11 ہزار سے زائد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جن میں 822 فکسڈ سینٹرز اور 475 ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہیں جو بس اڈوں، شاہراہوں اور عوامی مقامات پر متحرک رہیں
گی۔ اس مہم کے دوران بچوں کو پولیو کے قطروں کے ساتھ ساتھ وٹامن اے کی خوراک بھی دی جائے گی۔
انعام الحق قریشی نے واضح کیا کہ اگرچہ بلوچستان میں رواں سال اب تک پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، تاہم صوبے کے مختلف علاقوں سے حاصل کردہ ماحولیاتی نمونوں میں پولیو
وائرس کی موجودگی اب بھی برقرار ہے، جو بچوں کے لیے ایک مسلسل خطرہ ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق، سال 2025 میں پاکستان میں پولیو کے کل 31 کیسز سامنے آئے تھے، جس کی وجہ سے ویکسینیشن کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر نے مہم کی نگرانی کرتے ہوئے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ہر بچے تک رسائی کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ “اگر ایک بھی بچہ ویکسین سے رہ گیا تو تمام بچے خطرے میں آ سکتے ہیں”۔ انہوں نے دور دراز اور حساس علاقوں پر خصوصی توجہ دینے پر بھی زور دیا۔
محکمہ صحت نے والدین، اساتذہ، علماء کرام اور علاقائی عمائدین سے اپیل کی ہے کہ وہ مہم کی کامیابی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
حکام کا کہنا ہے کہ بار بار ویکسینیشن سے ہی بچوں میں مضبوط قوتِ مدافعت پیدا ہوتی ہے اور یہ معمول کی ویکسینیشن بچوں کو پولیو سمیت 12 مہلک بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتی ہے