پشاور (بیورو رپورٹ) خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں محکمہ ایکسائز کے تھانے سے مالِ مقدمہ (کیس پراپرٹی) کی 100 سے زائد گاڑیاں غائب ہونے کا سنسنی خیز انکشاف ہوا
ہے۔
محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تمام گاڑیوں کی فوری واپسی اور فزیکل ویریفکیشن کا حکم دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ایک حالیہ انسپیکشن کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ تھانے کے ریکارڈ میں موجود 100 سے زائد گاڑیوں میں سے صرف 6 گاڑیاں موقع پر موجود تھیں۔
انکشاف ہوا ہے کہ باقی گاڑیاں محکمہ کے اہلکاروں نے غیر قانونی طور پر اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور دیگر بااثر افراد میں تقسیم کر رکھی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ “رجسٹر نمبر 19” میں ان تمام گاڑیوں کی تفصیلات اور انہیں استعمال کرنے والے افراد کے نام درج پائے گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کے غیر قانونی استعمال میں کئی بااثر افراد کے نام سامنے آئے ہیں اور مزید بڑے نام سامنے آنے کا قوی امکان ہے۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ ایکسائز نے باقاعدہ مراسلہ جاری کیا ہے جس میں تمام کیس پراپرٹی گاڑیاں 24 گھنٹوں کے اندر واپس لانے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔
مراسلے میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مقررہ وقت کے اندر گاڑیاں واپس نہ کی گئیں تو متعلقہ اہلکاروں کے خلاف سخت تادیبی اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ایکسائز سید فخر جہاں نے اس معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری گاڑیوں کے معاملے میں کسی قسم کا دباؤ یا سفارش قبول نہیں
کی جائے گی۔
انہوں نے محکمے کو تمام گاڑیوں کی مکمل تفصیلات اکٹھی کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔اور کہا کہ سرکاری املاک کا نجی استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔جبکہ گاڑیاں واپس
نہ کرنے والوں کے خلاف بلا تفریق ایکشن لیا جائے گا۔
اس واقعہ نے محکمہ ایکسائز کے اندرونی نظم و ضبط اور مالِ مقدمہ کی حفاظت پر کئی بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں