کویٹہ ( خبردار نیوز) بلوچستان کے دو مختلف علاقوں میں بم دھماکوں کے دو مختلف واقعات میں ایک میجر سمیت سیکورٹی فورسز کے کم ازکم چار اہلکار مارے گئے جبکہ تین افراد زخمی ہوگئے۔
ان میں سے ایک واقع ضلع بارکھان میں بالا ڈاکہ کے قریب نوشم کے علاقے میں پیش آیا۔
سرکاری حکام نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان اہلکاروں کو آئی ای ڈی کے زریعے حملے کا نشانہ بنایا ۔
ایک سینیئر حکومتی اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نوشم کے علاقے میں نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جو اس وقت پھٹ گیا جب سیکورٹی فورسز کی گاڑیاں وہاں سے گزررہی تھیں۔
انھوں نے بتایا سیکورٹی فورسز کی ایک گاڑی دھماکے کی زد میں آگئی جس کے نتیجے میں کم از کم چار اہلکار زندگی کی بازی ہار گئے جن میں ایک میجر بھی شامل تھا۔
حکومتی اہلکار نے بتایا کہ دھماکے کی وجہ سے ایک اہلکار شدید زخمی بھی ہوا۔
بارکھان بلوچستان کا پنجاب سے متصل سرحدی ضلع ہے جبکہ اس کی سرحدیں بلوچستان کے اضلاع ڈیرہ بگٹی اور موسیٰ خیل سے بھی لگتی ہیں۔
اس واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے تاہم ماضی میں اس علاقے میں سنگین بدامنی کے زیادہ تر واقعات کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بی ایل اے کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔
اس واقعے سے قبل بارکھان سے ملحقہ بلوچستان کے نئے بننے والے ضلع اپر ڈیرہ بگٹی میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں دو افراد زخمی ہوئے ۔
ڈیرہ بگٹی میں ایک پولیس اہلکار منظور حسین نے فون پر صحافیوں کو بتایا کہ پیرکوہ میں نامعلوم افراد نے بارودی سرنگ نصب کی تھی ۔
ان کا کہنا تھا کہ بارودی سرنگ اس وقت زوردار دھماکے سے پھٹ گئی جب ایک موٹر سائیکل اس سے ٹکرا گیا۔
دھماکے کے باعث موٹر سائیکل پر سوار سمیت دو افراد زخمی ہوگئے جن کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
اہلکار کے مطابق زخمی ہونے والے افراد کا تعلق امن فورس تھا ۔