پاکستان نے تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کے پہلے مقابلے میں آسٹریلیا کو 5 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی۔ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا گیا یہ میچ کئی حوالوں سے تاریخی ثابت ہوا، جہاں قومی ٹیم نے اپنے ون ڈے کرکٹ کی تاریخ کا 1000واں میچ کھیلا، جبکہ نوجوان آل راؤنڈر عرفات منہاس نے شاندار ڈیبیو کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی۔
کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی، جس کے بعد پاکستانی بولرز نے مہمان ٹیم کو جم کر کھیلنے کا موقع نہ دیا۔ آسٹریلوی ٹیم 45 اوورز میں 200 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔
ڈیبیو کرنے والے عرفات منہاس نے غیر معمولی بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5 وکٹیں حاصل کیں اور ون ڈے کیریئر کے پہلے ہی میچ میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا۔ وہ ون ڈے ڈیبیو پر پانچ وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے کرکٹر بن گئے۔
آسٹریلیا کی جانب سے میتھیو شارٹ نے نصف سنچری اسکور کی، تاہم دیگر بیٹرز پاکستانی بولنگ کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے۔ عرفات منہاس نے جوش انگلس، مارنس لبوشین، کیمرون گرین، میتھیو شارٹ اور نیتھن ایلس کو آؤٹ کر کے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر دیا۔ ابرار احمد نے دو جبکہ شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور سلمان علی آغا نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔
201 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے پراعتماد انداز میں بیٹنگ کی۔ بابر اعظم اور غازی غوری نے ذمہ دارانہ نصف سنچریاں اسکور کرتے ہوئے ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ بابر اعظم 69 اور غازی غوری 65 رنز بنا کر نمایاں رہے۔
پاکستان نے مطلوبہ ہدف 43ویں اوور میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ عرفات منہاس نے چھکا لگا کر میچ کا اختتام کیا اور اپنی آل راؤنڈ کارکردگی کے باعث مین آف دی میچ قرار پائے۔
میچ سے قبل قومی ٹیم کے منیجر نوید اکرم نے عرفات منہاس کو ڈیبیو کیپ پیش کی، جبکہ ساتھی کھلاڑیوں اور سپورٹنگ اسٹاف نے انہیں مبارکباد اور نیک تمناؤں سے نوازا۔
یہ مقابلہ پاکستان کے لیے اس لحاظ سے بھی تاریخی تھا کہ قومی ٹیم ون ڈے کرکٹ میں ایک ہزار میچز مکمل کرنے والی دنیا کی تیسری ٹیم بن گئی۔ اس سے قبل بھارت اور آسٹریلیا یہ سنگ میل عبور کر چکے ہیں۔
سیریز کا دوسرا اور تیسرا ون ڈے بالترتیب 2 اور 4 جون کو لاہور میں کھیلا جائے گا