کوئٹہ (خبردار نیوز) — جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پاکستان بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حکومتی رٹ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے،
حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ لوگ اپنے ہی علاقوں میں جانے سے قاصر ہیں اور ملک چلانے والی طاقتیں اس تمام صورتحال سے مکمل واقف ہیں۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی نے ملک کی سیاسی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کا حل کبھی بھی طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آمریت دونوں نظام ناکام ہو چکے ہیں اور پاکستان میں سیاستدانوں کو آزادانہ کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، جس سے پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو کر رہ گئی ہے۔
ہم پر جبری طور پر مسلط کی جانے والی حکومتیں ناقابلِ قبول ہیں۔
نئے صوبوں کے قیام کی بحث پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ صوبے کیک کاٹ کر نہیں بنائے جاتے اور نہ ہی نئے صوبے بنانا اس وقت ملک کی بنیادی ضرورت ہے۔
نئے صوبوں کا قیام محض انتظامی معاملہ ہے اور اس کے لیے تمام فیصلے تمام متعلقہ قوموں کی شناخت کا احترام کرتے ہوئے مشاورت اور عوامی رائے سے ہونے چاہئیں۔
محمود خان اچکزئی سے متعلق بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ وہ صرف کسی ایک علاقے کے نہیں بلکہ بحیثیتِ مجموعی اپوزیشن لیڈر ہیں، اور انہیں مشورہ ہے کہ موجودہ ملکی حالات کے تناظر میں اپوزیشن کا فوری اجلاس طلب کریں۔
وفاقی وزیر محسن نقوی کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر محسن نقوی خود نظام کو ناکام سمجھتے ہیں تو انہیں فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔
آئینی ترامیم پر اپنے موقف کو دہراتے ہوئے جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ جے یو آئی نے 26 ویں ترمیم کے موقع پر حکومت کے ساتھ مذاکرات کیے تھے
تاکہ آئین کی روح برقرار رہے، تاہم آئندہ 28 ویں ترمیم میں کیا لایا جا رہا ہے اس سے ابھی کوئی واقف نہیں ہے۔ تمام قومی مسائل کا واحد حل آئین پاکستان کے مطابق ملک کو چلانے میں مضمر ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی بلوچستان میں صوبائی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی اور اپنی آزادانہ جدوجہد جاری رکھے گی۔
ڈاکٹر مالک بلوچ سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیراعلیٰ بن رہے ہیں یا نہیں، اس بارے میں علم نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ عوام کی توقعات آج بھی جے یو آئی سے وابستہ ہیں، اور سیاست میں “نئے چہروں” کی اصطلاح فلمی دنیا کی ہے، جبکہ حقیقی سیاست عوامی جدوجہد اور آئینی پاسداری کا نام ہے۔