بلوچستان میں بارشوں سے ہلاکتوں کی تعداد 15 تک پنہچ گئی

بلوچستان میں بارشوں سے ہلاکتوں کی تعداد 15 تک پنہچ گئی

کوئٹہ ( خبردار نیوز ) ملک کے دیگر حصوں کی طرح بلوچستان میں بھی بارشوں کا دوسرا مرحلہ جاری ہے جس کے باعث صوبائی حکومت نے تمام اضلاع کےڈپٹی کمشنرز کو سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی اقدامات کرنے کا حکم دیا ہے۔
دوسری جانب گزشتہ ہفتے بلوچستان کے علاقے زیارت میں طوفانی بارشوں سے کافی نقصان ہوا ہے تاہم متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کوئی مدد نہیں ملی۔
حکومتی اعدادوشمار کے مطابق حالیہ بارشوں میں بچوں سمیت 15 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
گزشتہ روز چمن توبہ اچکزی، قلات عبداللہ پشین ہرنائی سمیت قلات خضدار اور ارائیں مستونگ بولان اور نوشکی میں بارش ہوئی اورسیلابی نالے اور دریا بہنے لگے جس کے نتیجے میں بولان نوشکی اور اوران میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اہم سڑکیں کچھ دیر کے لیے بند کر دی گئیں۔
صوبے میں پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق سرحدی ضلع چمن میں سولر انرجی گرنے سے 5 سالہ بچی زخمی ہوگئی بعد آزاں زخموں کی تاب نہ بعد ازاں 3 افراد زخمی ہوگئے۔
بلوچستان کے علاقے زیارت میں گزشتہ ہفتے ہونے والی شدید بارشوں سے ایک اور پل کو نقصان پہنچا ہے تاہم متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ حکومت نے ابھی تک ان کی کوئی مدد نہیں کی۔
اس حوالے سے پشتون نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ زیری نےخبردار نیوز کو بتایا کہ حکومت فوری طور پر متاثرہ افراد کی مدد کرنے کےلیے اقدامات کرنے چاہیے
تاہم بلوچستان اسمبلی کے حکومتی رکن اور پارلیمانی سیکرٹری ولی نورزئی س کاکہنا ہے کہ ہ حکومت نے متاثرین کی بحالی کا کام شروع کر دیا ہے۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق یکم جولائی سے اب تک بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں کے باعث 15 افراد جاں بحق اور 9 زخمی ہو چکے ہیں۔
مرنے والوں میں 6 بچے اور9 مرد شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں