واشنگٹن/تہران/کویت سٹی: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی انتہائی سنگین حد تک بڑھ گئی ہے۔
امریکی افواج نے ایران کے خلاف مسلسل چھٹی رات بھی فضائی اور میزائل حملوں کا نیا اور بڑا سلسلہ شروع کر دیا ہے،
جبکہ دوسری جانب خلیجی پانیوں میں ایران کی بحری ناکہ بندی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
اس جنگی صورتحال کے باعث کویت پر بھی حملے ہوئے ہیں اور خطے میں تیل کی ترسیل معطل ہونے سے عالمی توانائی کا بحران پیدا ہونے کا شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
امریکہ کے ایران پر فضائی حملے؛ اہم تنصیبات تباہ
امریکی عسکری کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق امریکی وقت کے مطابق دوپہر 2 بجے ایران کے خلاف فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا گیا۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں میں
بوشہر اور بندر عباس: ساحلی شہر بوشہر میں فضائی اور بحری فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا،
جبکہ بندر عباس کو شیراز سے ملانے والے اسٹریٹجک پل اور ایک ریلوے سب اسٹیشن پر بھی میزائل داغے گئے۔
صوبہ ہرمزگان میں ان حملوں کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ ریلوے سب اسٹیشن پر بھی 2 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے معاہدے (MOU) کی خلاف ورزی کے بعد آبنائے ہرمز پر دوبارہ ناکہ بندی نافذ کر دی گئی ہے۔
اب یہ راستہ صرف ان جہازوں کے لیے کھلا ہے جن کا رخ ایرانی بندرگاہوں کی طرف نہیں ہے۔
امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے خلیجِ عمان میں امریکی میرینز کی جانب سے ایک بحری جہاز پر چڑھ کر تلاشی لینے کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیاکہ ایران اب آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول کھو چکا ہے۔”
سینٹ کام کے مطابق ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے 3 جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا، جبکہ ایک جہاز جس نے احکامات ماننے سے انکار کیا، اسے امریکی کارروائی میں ناکارہ بنا دیا گیا۔
کویت کی وزارتِ دفاع نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ ایران کی جانب سے کویت کی متعدد اہم ترین تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
کویتی ترجمان کا کہنا ہے کہ ملکی دفاعی نظام نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اب تک 32 دشمن ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ کویت کی سرزمین سے ایران کی جانب زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل داغے گئے ہیں۔
کویت میں یکے بعد دیگرے کئی زور دار دھماکے سنے گئے جن کی آوازیں جنوبی عراق کے شہر بصرہ تک سنی گئیں۔
ایرانی عدلیہ نے امریکی قیدیوں کی رہائی سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ تو کسی قیدی کو رہا کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی تبادلہ عمل میں آیا ہے۔
دوسری جانب قطر کے بین الاقوامی میڈیا آفس نے اسرائیلی میڈیا کی ان خبروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے
جن میں کہا گیا تھا کہ قطر ایران کے خلاف امریکی مہم کا حصہ بنے گا۔
قطر کا کہنا ہے کہ یہ جھوٹی خبریں اس کے ثالثی کے اہم کردار کو نقصان پہنچانے اور اسے زبردستی جنگ میں دھکیلنے کی سازش ہیں، قطر اپنے غیر جانبدارانہ کردار پر قائم رہے گا۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور جنگی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ اگر اگلے چند ہفتوں میں اس اہم آبی گزرگاہ سے تیل اور گیس کی سپلائی بحال نہ ہوئی تو دنیا کو توانائی کی سلامتی کے بدترین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،
جس کے اثرات پوری عالمی معیشت پر مرتب ہوں گے۔
امریکہ کے ایران پر مسلسل چھٹی رات شدید حملے، کویت میں دھماکے، بحری ناکہ بندی سخت
Admin Team
← پچھلی خبر
پی ایچ ای سبی کے ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز طلب

Leave a Reply