بلوچستان حکومت نے تعلیم کے کل بجٹ میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے اسے 144 ارب روپے تک پہنچا دیا

کوئٹہ ( خبردار نیوز ) حکومتِ بلوچستان نے صوبے میں تعلیم کے شعبے کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، شرحِ خواندگی بڑھانے اور آؤٹ آف اسکول بچوں (Out-of-school children) کو تعلیمی دھارے میں لانے کے لیے کئی کلیدی اقدامات اور اصلاحات کا آغاز کیا ہے
بجٹ میں تاریخی اضافہتعلیمی بجٹ: صوبائی حکومت نے تعلیم کے کل بجٹ میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے اسے 144 ارب روپے تک پہنچا دیا ہے۔
اسکول ایجوکیشن میں اساتذہ کی کمی دور کرنے اور تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے 3,000 سے زائد نئی اسامیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔
اسکولوں کی اپ گریڈیشن اور بنیادی ڈھانچہ 1,000 اسکولوں کی بہتری: صوبے بھر میں تقریباً 679 پرائمری اسکولوں کو مڈل اور 409 مڈل اسکولوں کو ہائی اسکولوں میں اپ گریڈ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے تاکہ بچوں کا ڈراپ آؤٹ ریٹ کم کیا جا سکے۔
جدید ضرورتوں کے مطابق اسکولوں میں بنیادی سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور کمیونٹی اسکولز کے ذریعے ڈھائی لاکھ سے زائد بچوں کو اسکولوں میں واپس لانے کے لیے حکمت عملی پر عملدرآمد جاری ہے۔
دور دراز علاقوں کے بچوں کے لیے ڈبل شفٹ میں اسکولز چلانے کے اقدامات شامل ہیں۔ طالبات کی حاضری یقینی بنانے کے لیے ماہانہ وظائف کا نظام قائم کیا گیا ہے۔
‘بلوچستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ’ (BEEF) کے ذریعے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے مستحق اور ہونہار طلبہ کو شفاف طریقے سے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
پالیسی اور بین الاقوامی اداروں سے تعاون یونیسکو اور GPE کے ساتھ شراکت: یونیسکو (UNESCO) اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ‘پروونشل ایجوکیشن پالیسی’ اور ‘ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن (ECE)’ جیسے منصوبوں پر کام جاری ہے۔
جامعات کی گرانٹ: بلوچستان کی سرکاری جامعات کے لیے 8 ارب روپے کا سالانہ فنڈ اور کارکردگی کی بنیاد پر اضافی فنڈنگ کا طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں