بلوچستان میں سرکاری اسلحہ مبینہ طور پر چوری کرکے کالعدم تنظیموں تک پہنچانے اور فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ واقعے کے سلسلے میں سابق لیویز اہلکار اور موجودہ پولیس افسر سمیت تین افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق معاملہ رواں سال مئی میں اس وقت سامنے آیا جب بلیلی کے مقام پر محکمہ ایکسائز نے معمول کی چیکنگ کے دوران ایک گاڑی سے اسلحہ برآمد کیا۔ بعد ازاں کیس کی مزید تحقیقات کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے سپرد کردی گئیں۔
سی ٹی ڈی نے کارروائی کرتے ہوئے کوئٹہ کے علاقے کلی نوحصار میں ایک مکان پر چھاپہ مارا، جہاں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر جنگی سامان برآمد ہوا، جبکہ دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
تحقیقات کے دوران لیویز کے اسلحہ خانے کے سابق انچارج اور موجودہ پولیس افسر عبدالحکیم کو بھی گرفتار کیا گیا۔
حکام کے مطابق برآمد ہونے والے سامان میں ایس ایم جیز، چینی ساختہ رائفلیں، ایل ایم جیز، جی تھری رائفل، ہزاروں گولیاں، میگزین، راکٹ گولے، لانچر، فیوز اور دستی بم شامل ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں سرکاری اسلحہ مبینہ طور پر سرکاری گاڑیوں کے ذریعے مختلف علاقوں میں منتقل کرکے فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ اسلحے کی مبینہ خرید و فروخت کے لیے واٹس ایپ کے استعمال کا بھی پتا چلا ہے۔
حکام کے مطابق اس بات کی تحقیقات جاری ہیں کہ آیا یہ اسلحہ کالعدم تنظیموں کے کارندوں تک پہنچایا گیا یا نہیں، جبکہ گرفتار افراد سے مزید تفتیش کی جارہی ہے۔