ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری کا کالی مندر اور گورو نانک دربار کا دورہ؛ اقلیتی برادری کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی

قلات ( نا مہ نگار ) ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے قلات میں واقع ہندو محلے کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے تاریخی کالی مندر اور گورو نانک دربار میں حاضری دی اور اقلیتی برادری کے عمائدین سے ملاقات کی۔
کالی مندر پہنچنے پر ڈپٹی کمشنر کا ہندو پنچایت کے عہدیداران اور مہاراج گوسائیں شام گر جی، مہاراج گنشام داس، ڈاکٹر گنشام داس، دیوان کملیش کمار، مکھی دھنیش کمار، راجیش کمار اور راج کمار سمیت دیگر معززین نے پرجوش استقبال کیا۔
اس موقع پر مندر کے مہاراج صاحبان نے ڈپٹی کمشنر اور ان کے عملے کو روایتی چادریں پہنائیں۔ رہنماؤں نے مندر اور دربار کی تاریخی حیثیت، مذہبی تہواروں اور رسومات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور عبادت گاہوں کے مختلف حصوں کا دورہ کرایا۔
دورے کے دوران اقلیتی کمیونٹی نے ڈپٹی کمشنر کو اپنے درپیش مسائل سے آگاہ کیا، جن میں نمایاں درج ذیل ہیں:
اس میں پینے کے صاف پانی کی قلت، صفائی ستھرائی کے بہتر انتظامات کا فقدان اور اقلیتی برادری کے مستحق طلباء و طالبات کے لیے سکالرشپس کی فراہمی شامل ہیں –
ہندو پنچایت کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر کی اس دورے سے اقلیتی برادری کی بھرپور حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔
انجینئر عائشہ زہری ایک مخلص اور فرض شناس آفیسر ہیں جو علاقائی مسائل کے حل کے لیے دن رات جدوجہد کر رہی ہیں، اور ضلعی انتظامیہ کا تعاون ہمیشہ سے قابلِ تحسین رہا ہے۔
ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ، ان کے مسائل کا حل اور انہیں تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
ہندو برادری ہمارے معاشرے کا ایک انتہائی اہم اور معزز حصہ ہے، اور ان کی جان و مال، مکمل مذہبی آزادی اور حقوق کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس دورے کا بنیادی مقصد علاقے کے حالات کا جائزہ لینا اور ہندو برادری کو درپیش مشکلات کا براہ راست ادراک کرنا تھا۔
ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کے لیے دستیاب تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے، اور ہندو محلے میں صفائی ستھرائی، پینے کے صاف پانی کی دستیابی اور فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قلات میں آباد تمام اقلیتی برادریوں کو یکساں مساوی حقوق حاصل ہیں اور انتظامیہ ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں