کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ “جناح پیپلز ٹرین سروس” کا اجراء صوبے کے عوام کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے، جس سے مزدور، طلبہ، سرکاری ملازمین اور عام شہری بھرپور انداز میں مستفید ہوں گے۔
وہ کوئٹہ میں منعقدہ اس پُوقار افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس سروس کو مزید وسعت دے کر آئندہ سال تک دونوں سمتوں سے چلایا جائے گا،
جبکہ بوستان انڈسٹریل اسٹیٹ تک ریلوے ٹریک کی توسیع کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے اور خواہش ہے کہ اسے مزید علاقوں تک پھیلایا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے منصوبے کی لاگت اور تیاری پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اگر اس کے لیے انجن اور بوگیاں چین سے منگوائی جاتیں تو 50 سے 60 ارب روپے لاگت آتی، لیکن پاکستان ریلوے نے یہ نئے انجن اور بوگیاں خود تیار کی ہیں، جو ملکی وسائل کے بہترین استعمال کی روشن مثال ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ سینئر شہریوں اور خصوصی افراد کے لیے جناح پیپلز ٹرین کا سفر مکمل طور پر مفت ہوگا۔
جبکہ عام شہریوں کے لیے اس ٹرین کے کرائے سبسڈائزڈ اور انتہائی کم رکھے گئے ہیں۔
امن و امان اور سیاسی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ بلوچستان میں امن و ترقی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔
پاکستان کے مخالفین کے لیے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، تاہم ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور رٹ قائم کرنے کے لیے ریاستی قوت کا استعمال کیا جائے گا۔
آخر میں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کے عوام کی ترقی، خوشحالی اور صوبے کو ترقی یافتہ بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور اس منصوبے کی کامیابی میں پاکستان ریلوے، بیوروکریسی اور صوبائی حکومت کا مشترکہ کردار قابلِ تحسین ہے۔