اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے بابر اعوان اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں خلوصِ دل کے ساتھ بیٹھے تھے، تاہم چند بنیادی مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کے باعث بات آگے نہ بڑھ سکی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ہمارا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ ہر معاملے میں بانی پی ٹی آئی کی مشاورت اور ان کا موقف شامل ہونا لازم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو اس وقت تقریبا 300 مقدمات کا سامنا ہے، ایسی صورتحال میں وکلا، خاندان کے افراد اور ذاتی معالجین کی ان تک رسائی ناگزیر ہے۔
حکومت کی جانب سے ذاتی معالجین تک رسائی کے مطالبے کو تسلیم نہ کیے جانے کو انہوں نے مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں منعقدہ امن جرگے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ ہم نے مذاکراتی کمیٹی کو آگاہ کیا تھا کہ اس جرگے میں مسلم لیگ (ن) سمیت تمام سیاسی جماعتیں اور قبائلی عمائدین شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ جرگہ زمینی حقائق سے وفاق کو آگاہ کرنا چاہتا تھا، لہٰذا آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے کے پی کے کی تمام سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین کو اعتماد میں لیے بغیر آگے چلنا ممکن نہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے انکشاف کیا کہ اگرچہ بہت سے امور پر دونوں فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے ہو چکا تھا، مگر تمام فریقین کو مذاکراتی عمل کا حصہ بنانے کے نقطے اور بانی پی ٹی آئی تک ان کے ذاتی معالجین کی رسائی نہ ملنے کے باعث بات چیت کا یہ سلسلہ تعطل کا شکار ہو گیا۔