اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مین لائن ون (ML-1) کے منصوبے پر کام مزید تیز کرنے اور پاکستان ریلوے کو مضبوط و خود کفیل بنانے کے لیے کارپوریٹ طرز پر فوری اصلاحات نافذ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ ہدایات انہوں نے اسلام آباد میں پاکستان ریلوے میں اصلاحات کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ریلوے کی قبضہ شدہ زمینوں کی نشاندہی اور ان کی واگزاری کے سلسلے میں چیئرمین نیب لیفٹینینٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ کی سربراہی میں نیب اور وزارتِ ریلوے کی ٹیموں کی شاندار کارکردگی اور کاوشوں کو سراہا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلوے کی ترقی، مسافروں کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی اور فریٹ ٹرانسپورٹ میں اضافے کے لیے ایم ایل ون کی جدت کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ ریلوے کی اربوں روپے مالیت کی نشاندہی شدہ اراضی اور اس کی حقیقی تجارتی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے کمرشل مقاصد کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے تاکہ ملکی معیشت اور ریلوے کی ترقی میں اس سے بھرپور مدد مل سکے۔
وزیراعظم نے ریلوے کی اراضی پر مختلف کمرشل منصوبوں کے ذریعے بینکوں کی فنڈنگ حاصل کرکے ایم ایل ون کی تعمیر کے لیے استعمال کرنے کی منظوری دی اور متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ اس حوالے سے آئندہ دو ہفتوں میں ایک جامع لائحہ عمل اور منصوبہ پیش کیا جائے۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ریلوے کو منافع بخش بنانے اور اس کے آپریشنز کو بہتر کرنے کے لیے وزیرِ ریلوے پوری محنت کر رہے ہیں اور اسے خود کفیل بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
اجلاس میں دی جانے والی بریفنگ:
اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ 1726 کلومیٹر طویل ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کے منصوبے کو چار بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں درج ذیل سیکشنز شامل ہیں:
کراچی تا روہڑی (اس سیکشن کے لیے بین الاقوامی فنانسنگ سے استفادہ کیا جا رہا ہے) جبکہ روہڑی تا ملتان،ملتان تا لاہور،لاہور تا پشاور،اور بقیہ سیکشنز کے لیے مقامی وسائل سے فنڈنگ کا منصوبہ بنایا گیا ہے
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، حنیف عباسی، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چیئرمین نیب اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔