پاکستان کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد گنجائش سے 160 فیصد سے زائد تجاوز کر گئی- انسانی حقوق کمیشن

اسلام آباد( خبردار نیوز) انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (HRCP) کی جانب سے سالانہ پریزن ڈیٹا رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس کے مطابق پاکستان بھر کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد تشویشناک حد تک بڑھ کر ایک لاکھ 10 ہزار 515 ہو گئی ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں قیدیوں کی یہ تعداد 2019 کے مقابلے میں 50.1 فیصد زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جیلوں کی کل گنجائش صرف 68 ہزار 832 قیدیوں کی ہے، اس طرح جیلیں اپنی مقررہ گنجائش سے 160.6 فیصد زیادہ قیدیوں کے ساتھ چل رہی ہیں۔
صوبائی صورتحال کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے 193 فیصد اور پنجاب کی جیلوں میں 176.5 فیصد زیادہ قیدی بند ہیں۔
زیرِ سماعت قیدیوں کی تشویشناک صورتحال:
رپورٹ کے مطابق جیلوں میں قید کل افراد میں سے 82 ہزار 988 قیدی ایسے ہیں جو تاحال زیرِ سماعت ہیں اور یہ مجموعی قیدیوں کا 75 فیصد سے زائد بنتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اکیلے زیرِ سماعت قیدیوں کی تعداد ہی جیلوں کی مجموعی گنجائش سے 14 ہزار 156 زیادہ ہے۔
انسانی حقوق کمیشن کا کہنا ہے کہ عدلیہ میں مقدمات کی سست رفتاری، تاخیر اور ضمانت کے حصول میں مشکلات کی وجہ سے زیرِ سماعت قیدیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
منشیات کے سخت قوانین قیدیوں کی تعداد بڑھنے کا بڑا سبب:
رپورٹ کے مطابق منشیات سے متعلق سخت قوانین بھی پاکستان کی جیلوں میں قیدیوں کا بوجھ بڑھانے کا ایک اہم سبب بن چکے ہیں۔
انسداد منشیات ایکٹ کے تحت اس وقت 28 ہزار سے زائد افراد جیلوں میں قید ہیں، اور سال 2023 کے بعد سے منشیات کے مقدمات میں قید افراد کی تعداد میں 43.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کمیشن کا اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہنا ہے کہ جیلوں میں قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ محض عمارتوں یا گنجائش کی کمی نہیں ہے، بلکہ ہمارا پورا نظامِ انصاف اس کا بنیادی عنصر ہے۔
قیدیوں کی تعداد میں یہ اضافہ قوانین، پولیس گرفتاریوں کے طریقہ کار، ضمانت کے عمل اور مقدمات کو بروقت نمٹانے کے نظام سے جڑا ہوا ہے، جس پر فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں