اسلام آباد (خبردار کوئٹہ): وفاقی آئینی عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ القادر ٹرسٹ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس باقر نجفی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے دی۔ سماعت کے دوران بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیے، جبکہ سلمان اکرم راجا بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
بشریٰ بی بی نے رواں سال جولائی میں سزا معطلی کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ان کی جانب سے دائر فوجداری اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ خاتون ہونے اور پیچیدہ طبی مسائل کے باعث ان کی سزا معطل کی جائے۔
گزشتہ ماہ 17 ستمبر کو سلمان صفدر نے اپیل کی جلد سماعت کے لیے درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ بشریٰ بی بی کی آنکھوں میں تیزی سے پیچیدگیاں بڑھ رہی ہیں، جس کے باعث ان کی باقی ماندہ بینائی کو بھی خطرہ لاحق ہے۔
سماعت کے دوران سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کے مقدمات میں عدالتیں ہمیشہ نرم رویہ اختیار کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے نیب کے طرزِ عمل پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 13 ماہ کے دوران نیب نے متعدد سماعتوں پر التوا لیا اور سزا معطلی کی درخواست کی بھی مخالفت کی۔
وکیل کا کہنا تھا کہ سزا سنائے جانے کے بعد بشریٰ بی بی کو ضمانت دینے کی قانونی بنیاد موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی نے خاتون ہونے کی بنیاد پر سزا معطلی کی درخواست دائر کی، تاہم مقدمے میں زیادہ توجہ عمران خان کی اپیل پر مرکوز رہی۔
اس موقع پر چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ عدالت فی الحال مقدمے کے میرٹ کا جائزہ نہیں لے رہی، کیونکہ اس کے سامنے سزا معطلی کی درخواست زیرِ سماعت ہے۔ جسٹس باقر نجفی نے مرکزی اپیل کے سماعت کے لیے مقرر ہونے سے متعلق سوال بھی اٹھایا۔
دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا، جو بعد ازاں سناتے ہوئے بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست مسترد کر دی گئی۔
واضح رہے کہ احتساب عدالت نے 17 جنوری 2025 کو 190 ملین پاؤنڈ القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کو 14 سال جبکہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے دونوں پر جرمانے بھی عائد کیے تھے اور القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم دیا تھا۔
اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے مئی 2026 میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی سے متعلق درخواستیں اس بنیاد پر نمٹا دی تھیں کہ ان کی مرکزی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر ہیں۔ بعد ازاں بشریٰ بی بی نے سزا معطلی کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا تھا۔