نصیر اباد میں دو پولیس اہلکاروں کی شہادت پر ورثاء کا قومی شارہ پر احتجاج

نصیرآباد (نیوز ڈیسک): نصیرآباد کے علاقے بالان پل کے قریب مسلح افراد نے گشت پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں دو کانسٹیبل موقع پر ہی شہید ہو گئے۔
ملزمان کارروائی کے بعد سرکاری اسلحہ بھی چھین کر فرار ہو گئے۔
​تفصیلات کے مطابق، بالان پل کے قریب معمول کے گشت کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے پولیس اہلکاروں پر اچانک فائرنگ کر دی۔
شدید فائرنگ کی زد میں آکر کانسٹیبل مالک بگٹی اور کانسٹیبل احمد لاشاری موقع پر ہی جامِ شہادت نوش کر گئے۔
حملہ آور واقعے کے بعد شہید اہلکاروں کا سرکاری اسلحہ ساتھ لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔
​ورثا کا شدید احتجاج اور قومی شاہراہ کی بندش
​واقعے کے بعد پولیس اہلکاروں کے ورثا اور علاقہ مکینوں نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے پٹ فیڈر پل پر شہدا کی لاشیں سڑک پر رکھ کر دھرنا دے دیا۔
مظاہرین نے لمحہ بہ لمحہ بڑھتے احتجاج کے باعث سندھ و بلوچستان کو ملانے والی مرکزی قومی شاہراہ کو ہر قسم کی آمدورفت کے لیے مکمل بند کر دیا۔
​ورثا کا کہنا تھا کہ دو گھنٹے تک شہید اہلکاروں کی لاشیں سڑک پر پڑی رہیں اور یہ سانحہ محکمہ پولیس کی مبینہ نااہلی کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کر کے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
​انتظامیہ سے مذاکرات اور ٹریفک کی بحالی
​قومی شاہراہ پر بلاک کی صورتحال اور بڑھتے ہوئے تناؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے قائم مقام ڈی آئی جی نصیرآباد معروف عثمان نے مظاہرین سے فوری رابطہ کیا
اور ان سے کامياب مذاکرات کیے۔ پولیس حکام کی جانب سے ملزمان کی جلد گرفتاری اور تمام مطالبات کی منظوری کی یقینی دہانی پر شہدا کے ورثا نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
​دھرنا ختم ہونے کے بعد سندھ بلوچستان قومی شاہراہ کو ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔
دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملزمان کے لیے مختلف مشتبہ علاقوں میں چھاپوں کی تیاریاں جاری ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں