کوٰئٹہ ( خبردار نیوز ) بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماوں نے پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل سمیت دیگر قائدین پر ایف آئی آر درج کرنے کی مذمت کرتے ہوے کہا ہے کہ ایف آئی آر کل
منظر عام پر آی ہے جو بی این پی کیلئے یہ حکومت مارشل لاء سے کم نہیں ہے
انہوں نے کہا کہ سابق اور موجودہ ایم این ایز اور ایم پی ایز پر دہشتگردی کے مقدمات سمجھ سے بالاتر ہے جس سے ظاہر ہے کہ بلوچستان میں آمریت اور ناانصافیوں کا سلسلہ جاری ہے
آغا حسن بلوچ نے کہا کہ بی این پی قائدین ایف آئی آرز اور جیل سے گھبرانے والے نہیں ہیں
تاہم ہمارے سینیٹرز کو ٹارچر سیلز میں رکھنے والوں کیخلاف ایف آئی آرز درج کرنا چاہیے تھا،27 اکتوبر کو بلوچستان بھر میں احتجاج کرینگے اور30 اکتوبر کو بلوچستان بھر میں شٹرڈاون
ہڑتال ہوگی اور 2 نومبر کو بلوچستان بھر کے قومی شاہراوں پہیہ جام ہڑتال ہوگی یہ ہمارا احتجاجی شیڈول پرامن رہے گا،
آغا حسن بلوچ کے مطابق نوجوانوں کے شناختی کارڈ اور سمز بلاک کئے جارہے ہیں جو جمہوری کے خلاف ہے کیونکہ خیالات کے اظہار پر دہشتگردی کا مقدمہ درج کیا جارہا ہے تاہم ایف
آئی آر سے بھاگنے والوں میں سے نہیں ہیں