اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان کی میزبانی میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور اسی ہفتے یا آئندہ ہفتے کے آغاز میں متوقع ہے، جس کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کا خاتمہ اور ایک پائیدار معاہدے تک
پہنچنا ہے۔
پاکستان میں موجود ایرانی سفارت خانے کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ میراتھن مذاکرات (جو تقریباً 21 گھنٹے جاری رہا) کے بعد اب فریقین
اگلے مرحلے کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ مذاکرات اسی ہفتے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات میں کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچنے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک
مضمون شیئر کیا ہے ج
س میں ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی (Naval Blockade) پر غور کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
ناکہ بندی کی دھمکی: صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے امریکہ کی پیش کردہ حتمی شرائط (بشمول جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کی بندش) قبول نہ کیں تو واشنگٹن ایرانی معیشت پر
دباؤ بڑھانے کے لیے آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی جیسے سخت اقدامات کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکی بحریہ ان تمام بحری جہازوں کو روکنے کے لیے تیار ہے جو ایران کی بندرگاہوں سے نکلیں گے یا وہاں داخل ہوں گے۔
رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران کا جوہری پروگرام اور منجمد اثاثوں کی واپسی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جو امریکی وفد کی قیادت کر رہے ہیں،
نے واضح کیا ہے کہ جب تک ایران تمام شرائط پر عمل درآمد نہیں کرتا، امریکہ اپنا فوجی اور معاشی دباؤ برقرار رکھے گا۔
پاکستان اس وقت دونوں ممالک کے درمیان اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ وفاقی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں فریقین تعمیری انداز میں بات چیت جاری رکھیں گے
تاکہ خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا جا سکے۔