واشنگٹن(نیوز ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ناکہ بندی اور فوجی طاقت کے باعث ایران اب بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور کسی بھی قیمت پر ڈیل کرنے کا خواہش مند ہے۔
ایک حالیہ خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیج میں ہونے والی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی چھوٹی اور تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے امریکی بحریہ کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو کہ ناممکن ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ “ایران کے پاس 8 تیز رفتار کشتیاں تھیں جو تمام تباہ ہو گئیں، وہ کشتیاں تیز ضرور ہیں لیکن ہمارے میزائلوں سے تیز نہیں ہو سکتیں۔”
ٹرمپ نے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک بڑی ایرانی کشتی کو وارننگ دی گئی کہ اگر وہ 10 سیکنڈ میں واپس نہ مڑی تو اسے نشانہ بنایا جائے گا،
جس پر کشتی پر سوار اہلکاروں نے فوری طور پر واپسی کی راہ اختیار کی۔
ٹرمپ نے ایران پر کیے گئے حملوں اور سخت اقدامات کو عالمی امن کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا، “میں نے امریکہ سے زیادہ دنیا کے بھلے کے لیے ایران پر دباؤ بڑھایا۔ اگر ہم یہ اقدامات نہ کرتے تو آج مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال انتہائی مختلف اور خطرناک ہوتی۔
معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکی ناکہ بندی کے بہترین نتائج برآمد ہو رہے ہیں اور ایران اس وقت مکمل طور پر امریکہ کے کنٹرول میں ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ “ایران اگرچہ مختلف گیمز کھیل رہا ہے، لیکن حقیقت میں وہ اب بقا کی کوشش کر رہا ہے اور مذاکرات کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچنا چاہتا ہے۔”
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے یہ بیانات ان کی آنے والی سیاسی حکمت عملی اور مشرقِ وسطیٰ سے متعلق ان کے سخت گیر موقف کی دوبارہ توثیق کرتے ہیں، جس کا مقصد امریکی ووٹرز کو اپنی خارجہ پالیسی کی کامیابیوں کا یقین دلانا ہے۔