اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)
پاکستان کا روایتی بجٹ سازی کا عمل اور معاشی پالیسیاں ایک بار پھر سنگین سوالات کی زد میں ہیں۔
سابق نگراں وفاقی وزیر اور چیئرمین اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ گوہر اعجاز نے موجودہ معاشی نظام کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے ملک کا متبادل ‘شیڈو بجٹ’ پیش کر دیا ہے۔
گوہر اعجاز کا کہنا ہے کہ ہر سال جون میں بجٹ کی منظوری محض ایک رسم بن چکی ہے، جسے چند وزارتوں کی بند دیواروں کے پیچھے تیار کیا جاتا ہے
اور عوامی نمائندوں یعنی پارلیمنٹ کو اس کی جانچ پڑتال کے لیے دو ہفتے کا وقت بھی نہیں ملتا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گوہر اعجازنے کہا کہ تاجر برادری سے یہ توقع تو کی جاتی ہے کہ وہ معیشت کا پہیہ چلائے،
لیکن بجٹ بناتے وقت انہیں اندھیرے میں رکھا جاتا ہے اور منظوری کے بعد صرف آگاہ کیا جاتا ہے۔
یہ غیر مشاورتی عمل اور بجٹ سازی کا طریقہ کار مکمل ناکام ہو چکا ہے جس کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری رک گئی ہے۔”
گوہر اعجاز نے ملکی معیشت کو بتدریج تنزلی کا شکار قرار دیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ تین برسوں میں اوسط معاشی شرح نمو صرف دو فیصد رہی۔
انہوں نے ہولناک اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ 10 سال میں سرکاری قرضہ 19 ٹریلین سے چھلانگ لگا کر 80 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے،
اور آج صورتحال یہ ہے کہ بجٹ کا 60 فیصد حصہ صرف سود کی ادائیگیوں کی نذر ہو رہا ہے۔
موجودہ ٹیکس نظام کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تنخواہ دار اور فارمل سیکٹر پر بوجھ بڑھایا جا رہا ہے
جبکہ غیر دستاویزی معیشت ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ پانچ سال میں ٹیکس وصولیاں دگنی ہوئیں لیکن ٹیکس ٹو جی ڈی پی اب بھی 10 فیصد پر کھڑا ہے۔
ہم نے جو شیڈو بجٹ دیا ہے اس کے اعدادوشمار حقائق پر مبنی ہیں۔
اگر یہ غیر حقیقی ہے تو حکومت اسے چیلنج کرے۔ تاجر برادری اب ایسے یکطرفہ فیصلوں کو تسلیم نہیں کرے گی۔”
گوہر اعجازکے مطابق ہماری پیش کردہ متبادل شیڈو بجٹ میں تاجر برادری کو ریلیف دینے اور معیشت کو دستاویزی بنانے کے لیے انقلابی تجاویز دی گئی ہیں۔
جن میں انکم ٹیکس کو 35 سے کم کر کے 20 فیصد، کارپوریٹ ٹیکس کو 29 سے 25 فیصد، اور سیلز ٹیکس کو 18 سے 15 فیصد پر لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ نان فائلر کی کیٹگری کے خاتمے، ایف بی آر کا ہدف 14 ہزار 500 ارب مقرر کرنے اور سرکاری اخراجات میں 3 سے 4 ٹریلین روپے کی کمی کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
متبادل بجٹ میں مہنگے قرضوں کی واپسی، سنگل ٹریژری اکاؤنٹ کے نفاذ اور نئے این ایف سی ایوارڈ سمیت قومی اقتصادی کونسل کو فعال کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔