اسلام آباد (بیورو رپورٹ): وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاریوں کے اہم مرحلے پر سرکاری ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک تیز کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے غیر معینہ مدت کے لیے دھرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
گزشتہ دو روز سے وزارتِ خزانہ کے سامنے پرامن احتجاج کرنے والے ملازمین اب آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا) کی کال پر پاک سیکریٹریٹ چوک میں جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں، جہاں سے صوبوں سے آنے والے قافلوں کی آمد کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف فیصلہ کن مارچ شروع کیا جائے گا۔
اگیگا” کے چیف آرگنائزر رحمان باجوہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس بار ملازمین محض وعدوں پر گھر واپس نہیں جائیں گے، بلکہ جب تک ان کے مطالبات کو باقاعدہ بجٹ کا حصہ نہیں بنایا جاتا، احتجاجی دھرنا جاری رہے گا۔
سرکاری ملازمین کی جانب سے حکومت کے سامنے رکھے گئے چارٹر آف ڈیمانڈز میں درج ذیل اہم ترین مطالبات شامل ہیں:
1۔ تنخواہوں کا نیا ڈھانچہ اور الاؤنسز میں اضافہ
پے اسکیل 2026 کا نفاذ: ملازمین کا مطالبہ ہے کہ اب تک کے تمام ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کر کے نیا پے اسکیل 2026 متعارف کرایا جائے۔
ایڈہاک ریلیف الاؤنس: مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں 100 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2026 شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
کم از کم اجرت: ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیشِ نظر سرکاری ملازم کی کم از کم ماہانہ اجرت 50,000 روپے مقرر کی جائے، جبکہ 50 ہزار سے کم تنخواہ والے ملازمین کے لیے خصوصی طور پر 50 فیصد اضافی اضافے کا اعلان کیا جائے۔
مراعات اور الاؤنسز میں اضافہ: کنوینس الاؤنس، میڈیکل الاؤنس اور ہاؤس رینٹ الاؤنس میں فوری طور پر 200 فیصد اضافہ کیا جائے، جبکہ تنخواہوں میں تفاوت (Disparity) کو کم کرنے کے لیے مزید 30 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس دیا جائے۔
<2۔ پینشن اصلاحات کی واپسی اور ٹیکس چھوٹ
ملازمین نے حکومت کی مجوزہ پینشن اصلاحات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پینشن کے موجودہ نظام کو برقرار رکھا جائے اور اصلاحات کے نام پر ریٹائرڈ ملازمین کے حقوق پر ڈاکا نہ ڈالا جائے۔ اس کے علاوہ، اساتذہ اور محققین (Teachers and Researchers) کے لیے 25 فیصد ٹیکس سلیب کو فوری ختم کرنے اور ماضی میں اس مد میں کٹی ہوئی رقم ملازمین کو واپس کرنے کا مطالبہ بھی چارٹر کا حصہ ہے۔
3۔ معاہدے پر عملدرآمد اور ملازمین کا تحفظ
ملازمین کے قائدین کا کہنا ہے کہ حکومت 10 مارچ 2025 کو ہونے والے معاہدے کی تمام شقوں پر فوری عملدرآمد یقینی بنائے۔
اس کے ساتھ ساتھ تمام ڈیلی ویجز (روزانہ اجرت پر کام کرنے والے) اور کنٹریکٹ ملازمین کو فوری مستقل (Regularize) کیا جائے۔
دورانِ سروس وفات پا جانے والے ملازمین کے بچوں کی کوٹے پر بھرتیاں (شہدا پیکیج/وزیراعظم پیکیج کے تحت) فوری بحال کی جائیں۔
نجکاری کی فہرست میں شامل سرکاری اداروں کے ملازمین کے مستقبل کو تحفظ دینے کے لیے فوری طور پر "مشترکہ کمیٹیاں" تشکیل دی جائیں۔
ملازمین کا عزم: "مہنگائی کے اس دور میں سرکاری ملازم کا جینا محال ہو چکا ہے۔ ہم بجٹ بننے تک یہیں بیٹھیں گے اور اگر حکومت نے بجٹ 2026-27 میں ہمارے مطالبات تسلیم نہ کیے تو وفاقی دارالحکومت میں تمام سرکاری امور ٹھپ کر دیے جائیں گے۔
ملازمین کے پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف مارچ کے پیشِ نظر اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں اور ریڈ زون کی طرف جانے والے راستوں پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔