اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری، سالمیت اور شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے افغان عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سر زمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن
سرکاری ذرائع اور حکومتی موقف کے مطابق، پاکستان کی جانب سے افغان سر زمین کے اندر سرحد کے قریبی علاقوں میں کالعدم تنظیموں (خصوصاً تحریک طالبان پاکستان – TTP) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات پر مبنی تھیں، جن کا مقصد پاکستان میں حالیہ دنوں میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے ماسٹر مائنڈز اور سہولت کاروں کو ختم کرنا تھا۔
حکومت کا موقف ہے کہ بارہا تنبیہ اور شواہد فراہم کیے جانے کے باوجود افغان عبوری حکومت کی جانب سے سرحد پار موجود دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی نہیں کی گئی، جس کے بعد پاکستان کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کا استعمال کرنا پڑا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ”پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور پڑوسی ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر اچھے تعلقات کا خواہاں ہے،
لیکن ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اگر ہماری سرحدوں کے اندر بے گناہ شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جائے گا، تو پاکستان اپنے دفاع کا پورا حق رکھتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کی حالیہ لہر کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے ہیں، اور پاکستان اب کسی بھی جارحیت یا دہشت گردی کو برداشت نہیں کرے گا۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، پاک-افغان سرحد پر کشیدگی کی بنیادی وجہ کالعدم ٹی ٹی پی کی افغان سر زمین پر آزادانہ نقل و حرکت اور وہاں سے پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی ہے۔
پاکستان نے عالمی برادری اور افغان حکام کے سامنے مسلسل یہ مقدمہ پیش کیا ہے کہ دوطرفہ تعلقات کو مستحکم رکھنے کے لیے سرحد پار سے جاری دہشت گردی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔

Leave a Reply