بنکاک (مانیٹرنگ ڈیسک )تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک کے ایک معروف نائٹ کلب (بار) میں مسلح شخص کی جانب سے کی جانے والی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک اور 22 زخمی ہو گئے ہیں۔
زخمیوں میں سے کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق یہ ہولناک واقعہ ویک اینڈ کی ایک مصروف رات کو اس وقت پیش آیا جب بار میں بڑی تعداد میں مقامی افراد اور غیر ملکی سیاح موجود تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق، ایک نامعلوم مسلح شخص اچانک بار کے اندر داخل ہوا اور اس نے بغیر کسی انتباہ کے وہاں موجود ہجوم پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کے فوراً بعد بار کے اندر شدید بھگدڑ مچ گئی، لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے اِدھر اُدھر بھاگے اور چیخ و پکار سے پورا علاقہ گونج اٹھا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، سیکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیمیں بھاری نفری کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ امدادی کارکنوں نے فوری طور پر ہلاک ہونے والوں کی لاشوں اور زخمیوں کو بنکاک کے مختلف قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا۔
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق، زخمی ہونے والے 22 افراد میں سے متعدد کو گولیاں لگنے کی وجہ سے گہرے زخم آئے ہیں اور وہ اس وقت آئی سی یو (ICU) میں زیرِ علاج ہیں، جہاں ڈاکٹرز ان کی جانیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس اور کمانڈوز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر ناکہ بندی کر دی ہے۔ بار اور اس کے اطراف کے علاقوں میں لگے سی سی ٹی وی (CCTV) کیمروں کی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے تاکہ حملہ آور کی شناخت اور اس کے فرار کے راستے کا تعین کیا جا سکے۔
سیکیورٹی اداروں کی جانب سے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور شہر بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس فائرنگ کے پیچھے دہشت گردی کا کوئی منصوبہ تھا، دو گروہوں کے درمیان گینگ وار کا نتیجہ تھا یا کسی انفرادی رنجش کا شاخسانہ۔
تھائی لینڈ کے وزیرِ داخلہ اور اعلیٰ پولیس حکام نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔
حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ اس ہولناک واقعے میں ملوث عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور ملزم کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ دارالحکومت کے سیکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔

Leave a Reply