کراچی ( خبردار نیوز )محکمہ انسدادِ دہشت گردی (CTD) سندھ نے کراچی میں دہشت گردی کے بڑے منصوبے کو ناکام بناتے ہوئے انتہائی اہم پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔
ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں دہشت گردی کے حالیہ حملے کی پوری منصوبہ بندی پڑوسی ملک افغانستان میں کی گئی، جہاں سے دہشت گردوں کو منتخب کر کے پاکستان بھیجا گیا۔
پریس کانفرنس کے دوران گرفتار زخمی دہشت گرد عثمان کا سنسنی خیز اعترافی بیان بھی میڈیا کے سامنے نشر کیا گیا۔
ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر نے تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ کراچی حملے کے لیے دہشت گردوں کا انتخاب افغانستان کی سرزمين پر کیا گیا۔ فورسز کے ہاتھوں زخمی حالت میں گرفتار ہونے والے دہشت گرد عثمان کو افغانستان کی ایک جامعہ (یونیورسٹی) سے اس کارروائی کے لیے چنا گیا۔
عثمان نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا ہے کہ پاکستان روانگی سے قبل انہیں اور ان کے ساتھیوں کو افغانستان کے اندر قائم دو مختلف فوجی نوعیت کے تربیتی کیمپوں میں جدید ہتھیاروں کی تربیت فراہم کی گئی۔
عرفان بہادر کا کہنا تھا کہ”یہ ایک مسلمہ حقیقت بن چکی ہے کہ افغانستان کے تربیتی کیمپوں میں دہشت گردوں کو باقاعدہ تیار کیا جاتا ہے اور پھر انہیں پاکستان میں امن و امان تباہ کرنے اور اہم تنصیبات پر حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔”
تفتیشی حکام کے مطابق، گرفتار دہشت گرد نے پاکستان میں داخلے اور کراچی پہنچنے کے پورے روٹ کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا ہے۔ اعترافی بیان کے مطابق
دہشت گردوں کا یہ گروہ پاک افغان سرحد عبور کرنے کے بعد بلوچستان میں داخل ہوا۔
بلوچستان کے مختلف دشوار گزار اور دور افتادہ راستوں کو استعمال کرتے ہوئے یہ گروہ حب سٹی پہنچا جہاں سے ایک منظم نیٹ ورک کے تحت انہیں ایک گاڑی میں منتقل کیا گیا، جس کے ذریعے وہ کراچی کے علاقے چمڑا چورنگی پہنچے۔
ماسٹر مائنڈ قاری بشیر کی گرفتاری اور 13 رکنی نیٹ ورک کا انکشاف
ایس ایس پی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ اس خوفناک سازش کے پیچھے ایک منظم مقامی نیٹ ورک کام کر رہا تھا جس کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر نامی شخص تھا۔ سی ٹی ڈی نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے قاری بشیر کو گرفتار کر لیا ہے جس نے تفتیش کے دوران اپنے تمام جرائم کا اعتراف کر لیا ہے۔
تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ قاری بشیر نے ہی دہشت گردوں کو کراچی میں محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنے کے لیے کرائے کا مکان حاصل کر کے دیا تھا۔
اس پوری دہشت گردانہ کارروائی اور نیٹ ورک میں قاری بشیر سمیت مجموعی طور پر 13 افراد ملوث ہیں، جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
اعترافی بیان کی ویڈیو جاری
پریس کانفرنس کے دوران سی ٹی ڈی حکام نے میڈیا کے نمائندوں کو اسکرین پر گرفتار دہشت گرد عثمان کا اعترافی ویڈیو بیان بھی دکھایا۔ ویڈیو میں عثمان کو اپنے نیٹ ورک، افغان کیمپوں میں ملنے والی تربیت، اور کراچی میں اپنے اہداف کے حوالے سے تفصیلی اعتراف کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ایس ایس پی عرفان بہادر نے پریس کانفرنس کے اختتام پر عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کا امن تباہ کرنے کی کسی بھی بیرونی یا اندرونی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور اس نیٹ ورک کے باقی ماندہ تمام ارکان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

Leave a Reply