Daily Khabardar
July 16, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
فیفا ورلڈ کپ: میسی نے ارجنٹائن پر مبینہ جانبداری کے الزامات مسترد کر دیےزیارت: دہشت گردوں کے ہاتھو ں شہید (ر ) حوالدار صادق پانیزئی کی نمازِ جنازہ میں سینکڑوں افراد کی شرکتسعودی عرب پر حملے خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہیں، پاکستان برادر ملک کے ساتھ کھڑا ہے: شہباز شریفکیچ: محکمہ زراعت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ٹینڈر جاریکمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے کامیاب مذاکرات کے بعد ینگ ڈاکٹرز کا39دنوں سے جاری ہڑتال موخروزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا ہنہ کے علاقے کلی ببری میں گورنمنٹ گرلز اسکول کے قیام کا اعلانکوئٹہ: سانحہ زیارت کے لواحقین کا دھرنا سیاسی جماعتیں لیڈ کر رہی ہیں، نور محمد دمڑریاست کی سالمیت، خودمختاری اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیکراچی حملے کی سازش افغانستان میں تیار ہوئی، ماسٹر مائنڈ سمیت نیٹ ورک بے نقاب: ایس ایس پی سی ٹی ڈیڈائریکٹر عورت فاؤنڈیشن علاؤالدین خلجی اور پروجیکٹ کوآرڈینیٹر یاسمین مغل کی گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل سے ملاقات،فیفا ورلڈ کپ: میسی نے ارجنٹائن پر مبینہ جانبداری کے الزامات مسترد کر دیےزیارت: دہشت گردوں کے ہاتھو ں شہید (ر ) حوالدار صادق پانیزئی کی نمازِ جنازہ میں سینکڑوں افراد کی شرکتسعودی عرب پر حملے خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہیں، پاکستان برادر ملک کے ساتھ کھڑا ہے: شہباز شریفکیچ: محکمہ زراعت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ٹینڈر جاریکمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے کامیاب مذاکرات کے بعد ینگ ڈاکٹرز کا39دنوں سے جاری ہڑتال موخروزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا ہنہ کے علاقے کلی ببری میں گورنمنٹ گرلز اسکول کے قیام کا اعلانکوئٹہ: سانحہ زیارت کے لواحقین کا دھرنا سیاسی جماعتیں لیڈ کر رہی ہیں، نور محمد دمڑریاست کی سالمیت، خودمختاری اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیکراچی حملے کی سازش افغانستان میں تیار ہوئی، ماسٹر مائنڈ سمیت نیٹ ورک بے نقاب: ایس ایس پی سی ٹی ڈیڈائریکٹر عورت فاؤنڈیشن علاؤالدین خلجی اور پروجیکٹ کوآرڈینیٹر یاسمین مغل کی گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل سے ملاقات،

کوئٹہ: سانحہ زیارت کے خلاف دھرنے سے محمود خان اچکزئی کا خطاب؛ وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی سے استعفیٰ کا مطالبہ

کوئٹہ (خبردار نیوز )پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے سانحہ زیارت کے خلاف کوئٹہ میں جاری دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کی حکومت سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بلوچ قیادت اور اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت سے اس احتجاجی تحریک کو پورے پاکستان میں پھیلایا جائے گا۔
محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب میں سانحہ زیارت پر گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو بغیر اسلحہ اور ہتھیار کے مانگی کے علاقے میں بھیجنے والے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) سے لے کر چیف سیکرٹری تک تمام بیوروکریسی اس قتل کی ذمہ دار اور قاتل ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان تمام متعلقہ افسران کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے اور جن لوگوں نے ان پولیس والوں کو وہاں بھیجا، انہیں یا تو استعفیٰ دینا چاہیے تھا یا انہیں برطرف کیا جانا چاہیے تھا۔
اپوزیشن لیڈر نے الزام لگایا کہ “پہلے ہمارے بچوں کو شہید کیا گیا اور پھر ان پر تیزاب ڈالا گیا، جس کا حساب حکمرانوں کو دینا ہوگا۔
انہوں نے شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کی لاشیں جس انداز میں گاڑیوں میں ڈال کر کوئٹہ لائی گئیں، ایسا سلوک تو کوئی قصاب بکروں کے ساتھ بھی نہیں کرتا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن جماعتوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ سرفراز حکومت استعفیٰ دے، اس حکومت کو اب گھر جانا ہوگا۔ موجودہ وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم بے اختیار حکمران ہیں، ان کے پاس بات چیت یا مذاکرات کا کوئی اختیار نہیں، اس لیے ان سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
حکومت کی جانب سے لواحقین کے لیے امدادی رقم پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے بچے اتنے سستے نہیں ہیں، قوم اتنی بے غیرت نہیں کہ پیسوں پر بک جائے۔ اگر لواحقین کو مالی ضرورت ہوئی تو ایک کروڑ 20 لاکھ روپے کی یہ رقم قوم خود جمع کر کے دے گی۔
انہوں نے دھرنا کمیٹی کو تجویز دی کہ احتجاج کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے اب صوبے کے ہر ضلع میں ڈی سی آفس کے باہر دھرنے دیے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے چمن سرحد کے عوام کو بھی تجارت کی بندش کے خلاف دوبارہ مشاورت سے دھرنا شروع کرنے کا مشورہ دیا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پشتونخوا وطن پر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت لڑائی مسلط کی گئی ہے تاکہ یہاں کے وسائل اور معدنیات پر زبردستی قبضہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے پشتون فرقہ پرست یا دہشت گرد نہیں، لیکن وہ اپنے وطن کا دفاع کرنا اچھی طرح جانتے ہیں۔ انہوں نے زہری میں سردار موسیانی کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ باپ کے سامنے بیٹے کو مارنا انسانیت نہیں، اگر یہ رویہ رہا تو گولیاں ختم ہو جائیں گی لیکن نوجوان ختم نہیں ہوں گے۔
انہوں نے مقتدر حلقوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ فوج اور دیگر اداروں کو اپنے آئینی حدود میں رہنا ہوگا اور آئین کے تحت چلنا ہوگا، سیاست فوج کا کام نہیں ہے۔ فوج کو الیکشن میں مداخلت سے ہاتھ کھینچنا ہوگا، عوام جسے ووٹ دیں حکومت اسی کی ہونی چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے تجویز دی کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کی قیادت میں اپنے تمام ہمسایہ ممالک کا ایک اہم اجلاس طلب کرے۔
اگر افغانستان پر دہشت گردی کا کوئی الزام ثابت ہوتا ہے تو ہم سب ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں گے، لیکن اس کے ساتھ ہی ہمسایہ ملک کی آزادی اور خودمختاری کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔
اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ ہم بندوق نہیں اٹھائیں گے لیکن اس ظلم کے خلاف ایک منظم تحریک چلائیں گے۔
اب باتوں کا نہیں بلکہ عمل کا وقت ہے، ہم صرف ایک خدا کے سامنے سجدہ کرنے والے ہیں اور کسی ظالم کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔

شیئر کریں: WhatsApp

Admin Team

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *